اسلام آباد ہائیکورٹ،8ججز کو دھمکی آمیزخط:عملے نے خطوط کھولے تو اندر سے پاؤڈر بر آمد متن میں انتھراکس لکھا تھا،ڈرانے کا نشان بھی موجود ،دہشتگردی کا مقدمہ درج

اسلام آباد ہائیکورٹ،8ججز کو دھمکی آمیزخط:عملے نے خطوط کھولے تو اندر سے پاؤڈر بر آمد متن میں انتھراکس لکھا تھا،ڈرانے کا  نشان بھی موجود ،دہشتگردی کا مقدمہ درج

اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے ،دنیا نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی سمیت تمام آٹھ ججز کو بذریعہ ڈاک دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں جن میں سفوف پایا گیا جسے انتھراکس بتایا گیا ہے ،

ہائی کورٹ انتظامیہ نے پولیس کو مقدمہ درج کر کے معاملے کی تفتیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام خطوط پولیس کے محکمہ انسداد دہشتگردی کے حوالے کر دئیے ،سی ٹی ڈی نے مقدمہ درج کرلیا۔ ایف آئی آر کے متن میں تحریر کیا گیا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور دیگر جج صاحبان کے نام خطوط میں سے 4لفافے کھولے گئے جن میں سفید پائوڈر کی آمیزش پائی گئی۔ادھر عدالتی امور میں مبینہ مداخلت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط پر سپریم کورٹ کا 7رکنی لارجر بینچ آج ساڑھے گیارہ بجے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ازخود نوٹس کی سماعت کریگا ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس جمال خان مندوخیل ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان بھی بینچ کا حصہ ہوں گے ۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8ججز کو خطوط موصول ہوئے ، ججز کے سٹاف میں شامل عدالتی عملے نے لفافے کھولے توٹائپ شدہ دھمکی آمیز خط اور پاؤڈر نکلا جس کے ساتھ لفظ انتھراکس(Anthrax )تحریر تھا ، خط کے اندر ڈرانے دھمکانے والا ایک نشان بھی موجود تھا ، متاثرہ عدالتی افسر نے بتایا کہ اسے خط کھولنے کے بعد آنکھوں میں جلن شروع ہو گئی،اس نے فوری طور پر سینیٹائزر استعمال کیا اور منہ ہاتھ دھویا۔

عدالت نے معاملے کا سیریس نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ، ججز کو ملنے والے تمام مشکوک خطوط کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کردئیے گئے ہیں جو تفتیش کر کے ہائی کورٹ کو پیش رفت سے آگاہ کرے گی۔ذرائع کے مطابق پولیس نے دھمکی آمیز خطوط سے متعلق تحقیقات شروع کردیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ خط پر ریشم اہلیہ وقار حسین کا نام لکھا ہے لیکن اپنا ایڈریس نہیں لکھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران خط ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خط 8 ججز کو موصول ہوئے ہیں، آج کی سماعت میں تاخیر کی ایک وجہ یہی تھی، بنیادی طور پر ہائیکورٹ کو تھریٹ کیا گیا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد پولیس اور ڈی آئی جی سکیورٹی کو فوری طور پر طلب کر لیا ،دوسری جانب اسلام آباد پولیس کی ماہرین کی ٹیم نے مواد اور خط اپنی تحویل میں لے لیے ، ہائی کورٹ میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی فوٹیجز لے لی گئیں،ڈی آئی جی سکیورٹی نے کہا ہائی کورٹ میں آنے والے خطوط اور مواد کا فرانزک کروایا جائے گا، پولیس سکیورٹی ڈویژن اسلام آباد ہائی کورٹ کی مکمل سکیورٹی پر تعینات ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں