سینیٹ میں بلا مقابلہ انتخاب،پی ٹی آئی کا احتجاج:پیپلز پارٹی کے یوسف گیلانی نے چیئرمین،ن لیگ کے سیدال ناصر نے ڈپٹی چیئرمین کا حلف اٹھا لیا

سینیٹ میں بلا مقابلہ انتخاب،پی ٹی آئی کا احتجاج:پیپلز پارٹی کے یوسف گیلانی نے چیئرمین،ن لیگ کے سیدال ناصر نے ڈپٹی چیئرمین کا حلف اٹھا لیا

اسلام آباد ،لاہور(اپنے رپورٹرسے ،سیاسی رپورٹرسے ،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) حکومتی اتحاد کے نامزد وپاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی بلا مقابلہ چیئرمین اور مسلم لیگ (ن)کے سیدال خان ناصر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے جنہوں نے اپنے عہدوں کا حلف بھی اٹھا لیا ۔

پریذائیڈنگ آفیسر وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے یوسف رضا گیلانی سے چیئرمین کے عہدے کا حلف لیا جبکہ نو منتخب چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے سیدال خان ناصر سے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کا حلف لیا۔چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر تحریک انصاف نے بائیکاٹ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا ۔ پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا خیبر پختونخوا کے سینیٹرز کی ایوان میں موجودگی تک چیئرمین  و ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ملتوی کیا جائے اس دوران پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے ایوان میں نعرہ بازی کی۔دوسری طرف وزیر خارجہ اسحاق ڈار کوقائد ایوان مقرر کردیا گیا۔منگل کو چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے کاغذات نامزدگی دن 11 بجے تک جمع کرائے گئے ۔ 11 بج کر 15 منٹ پر کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی گئی ۔چیئرمین سینیٹ کیلئے یوسف رضاگیلانی اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے حکومتی اتحادکے امیدوارسیدال خان ناصرنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ۔ دونوں امیدواروں کے مقابلے میں کسی نے کاغذات جمع نہیں کرائے ،پی ٹی آئی نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا جس کے باعث چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ۔

نومنتخب چیئرمین وڈپٹی چیئرمین نے تمام ممبران سے ملاقات کی جنہوں نے انھیں مبارکباد دیں ۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نو منتخب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو عہدوں کا حلف اٹھانے پر مبارکباد دی۔ چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا ۔ ایک نکاتی ایجنڈا کی تکمیل کے بعد چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔قبل ازیں سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو صدارت پریذائیڈنگ آفیسر اسحاق ڈارنے کی۔انہوں نے یوسف رضا گیلانی ،رانا محمودالحسن،احمد خان ، عبدالشکور، انوارالحق ، ایمل ولی، جان محمد، عبدالقدوس بزنجو، سردار عمر گورگیج ، جام سیف اللہ خان، اسلم ابڑو، مسرور احسن، دوست علی جیسر، اشرف جتوئی، کاظم علی شاہ ،ندیم بھٹو ، حامد خان ، علامہ ناصر عباس اور دیگر نو منتخب سینیٹرز سے حلف لیا ۔حلف اٹھانے کے بعد سینیٹرز کی جانب سے رول آف ممبرز پر دستخط کیے گئے ۔ 43 میں سے 41 سینیٹرز نے حلف اٹھایا ۔ فیصل واوڈا اور مولانا عبد الواسع نے حلف نہیں اٹھایا ۔چیئرمین وڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کیلئے اسحاق ڈار نے اجلاس کی صدارت کی تو پی ٹی آئی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور ان پر اعتراض کرتے ہوئے احتجاج شروع کردیا اور شیم شیم ،چوری کا سینیٹ الیکشن نامنظور اور بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے لگائے ۔اسحاق ڈارکے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی۔ پی ٹی آئی کے سینیٹرز بانی پی ٹی آئی کی تصاویر بھی ایوان میں لے آئے ۔اپوزیشن نے مطالبہ کیا ایوان مکمل نہیں پہلے خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے انتخابات کرائے جائیں تاہم حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کردیا گیا اور چیئرمین ،ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا عمل جاری رکھا گیا۔

پی ٹی آئی کے علی ظفر نے کہا جب تک پختونخوا کے سینیٹرز نہیں آجاتے اس اجلاس اور انتخاب کو ملتوی کیا جائے ، اجلاس غیر آئینی و غیر قانونی ہے ان انتخابات سے فیڈریشن کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا آرٹیکل 59کے مطابق جب تک ہر سینیٹر اپنا حلف نہ اٹھالے ایوان مکمل نہیں ہو سکتا اور نہ کسی قسم کا انتخاب ہو سکتا ہے ۔اس وقت حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کا کوئی بھی نمائندہ یہاں موجود نہیں۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا سینیٹ کی ایک اکائی یہاں موجود نہیں تو یہ الیکشن درست نہیں، اس کے ممبران کے بغیر چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن نہیں ہونا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا خیبرپختونخوا کی نمائندگی کے بغیر انتخابات غیر قانونی ہوں گے ، اس سے ہم صوبے کے عوام کو تکلیف دیں گے ، ہمیں یہ کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے ، الیکشن ہوجائیں گے لیکن اگر ملتوی ہوجائیں تو کیا قباحت ہے ؟۔وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا وفاق تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے ۔اپوزیشن کی جانب سے جو احتجاج ہو رہا ہے اس کو حکومت مسترد کرتی ہے ، سینیٹ کے انتخابات آئینی طریقے سے ہو رہے ہیں۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر نکتہ اعتراض پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا خیبرپختونخوا میں الیکشن کسی قدرتی آفت کی وجہ سے ملتوی نہیں ہوئے ،وہاں پر مخصوص نشستوں پر منتخب لوگوں نے حلف لینا تھا ہائیکورٹ نے کہا اجلاس بلاکر ان سے حلف لیا جائے ۔الیکشن کمیشن نے حکم دیا جب تک مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا جاتا سینیٹ الیکشن نہیں ہوسکتا آئین میں لکھا ہے کچھ سینیٹرز کی نشستیں خالی ہونے سے ایوان کی کارروائی نہیں رکے گی۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا یہ کوئی طریقہ نہیں آپ اس صوبے میں انتخابی عمل کو چلنے بھی نہ دیں اور یہاں بھی کہیں کہ ہم بزنس چلنے نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہا ایوان بالا کو آئین کے تحت چلایا جا رہا ہے ۔اپوزیشن کا احتجاج درست نہیں ۔بعد ازاں نو منتخب چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہاسینیٹ وفاق کے اتحاد کا مظاہرہ کرتی ہے ، ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار الیکشن کرائے جو واحد صاف و شفاف الیکشن قرار پائے ملک میں بہت بحران ہے ، سب سے زیادہ بڑا بحران نفرت اور تقسیم پیدا کرنا ہے ۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ نفرت کی سیاست کو مسترد اور مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیامیرا مقصد ہے پل بناؤں اور ڈائیلاگ کراؤں۔منتخب ہونے کے بعد اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا بھٹو نے اتفاقِ رائے قائم کیا اور آئین مرتب کیا۔انہوں نے کہاسینیٹ اور ارکان کے وقار پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے ۔

یوسف گیلانی بھٹو ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے ۔انہوں نے کہا سپریم کورٹ نے قائدعوام کے جوڈیشل مرڈر کا اعتراف کیا۔سینیٹ سیکرٹریٹ نے چیئرمین یوسف رضا گیلانی و ڈپٹی چیئرمین سیدال ناصر کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کردئیے ۔دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو سینیٹ میں قائد ایوان مقرر کردیا۔ اسحاق ڈار کی قائد ایوان کی تقرری کا سینیٹ سیکرٹریٹ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔دریں اثناء پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے نومنتخب چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے زرداری ہاؤس میں ملاقات کی۔ بلاول بھٹو نے یوسف گیلانی کو بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہونے پر مبارک باد دی۔ یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین سے ان پر اعتماد کرنے پر اظہار تشکر کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے سید یوسف رضا گیلانی کو چئیرمین اور سیدال خان ناصر کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے پر مبارکباددی ہے اوران کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ عوامی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے موثر قانون سازی میں بھر پور کردار ادا کریں گے ۔

منگل کو وزیراعظم نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات جمہوری عمل کا تسلسل ہیں، امید ہے کہ آپ آئین کی سربلندی اور ملکی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین اور سیدال خان ناصر کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔وزیراعلیٰ نے کہا چیئر مین اور ڈپٹی چیئرمین کاانتخاب عوام کی طرف سے اعتماد کا ثبوت ہے ۔ امید ہے یوسف رضا گیلانی اور سیدال خان قوم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بھرپور کردار ادا کرینگے ۔ مریم نواز نے کہا یوسف رضا گیلانی اور سیدال خان ناصر خوشحال پاکستان کے لیے بھر پور معاونت کرینگے ۔جمعیت علماء اسلام کے وفد نے نو منتخب چیئرمین سینیٹ یو سف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور انہیں مبارکباد دی ۔ جے یو آئی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری ، سینیٹر کامران مرتضیٰ ، مولا عطا الرحمن ، سینیٹر عبدالشکور ، سینیٹر احمد خان نے چیئرمین سے ملاقات کی اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ یوسف رضا گیلانی نے پارلیمانی کردار پر مولانا فضل الرحمن اور ان کی پارٹی کا شکریہ ادا کیاا ور کہا ملک کی بہتری کیلئے قانون سازی میں تمام اتحادیوں کے ساتھ ملکر چلیں گے ۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں