کونسی کار کردگی ہے جو عوام سے ملوں؟مہنگائی میں کمی کیلئے شہباز شریف کو ٹاسک دیدیا:نواز شریف

کونسی کار کردگی ہے جو عوام سے ملوں؟مہنگائی میں کمی کیلئے شہباز شریف کو ٹاسک دیدیا:نواز شریف

(تجزیہ: سلمان غنی) قومی سیاست میں نواز شریف کا سیاسی کردار اب بھی زیر بحث ہے سیاسی مخالفین ان کی خاموشی کو کسی خاص حکمت عملی اور دباؤ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب ان کے حامی اور خصوصاً حکومتوں میں ن لیگ کی قیادت آج بھی انہیں اپنی سیاسی و حکومتی طاقت کا محور قرار دیتی نظر آ رہی ہے۔

 اور خصوصاً ان کے بھائی وزیراعظم شہباز شریف کی کوئی ایسی تقریر یا ایسی تقریب میں شرکت نظر نہیں آتی جس میں وہ نواز شریف کے سیاسی ادوار میں ان کے کردار اور حکومتی کارکردگی کا ذکر نہ کرتے ہوں لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ نواز شریف واقعتاً سیاسی محاذ پر پسپائی اختیار کر چکے ہیں،پارٹی رہنماؤں اور حکومتی نمائندوں کیساتھ ملنے سے گریز کررہے ہیں ۔ 2017 میں عدالتی نااہلی کیسے ممکن بنی نواز شریف اسے بھلانے کو تیار نہیں اور آج بھی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ کے آزادانہ کردار کیلئے ضروری ہے کہ صرف چھ ججز کے مکتوب کو بنیاد بنا کر فل کورٹ تشکیل دے کر کسی فیصلہ پر نہیں پہنچنا چاہئے یہ مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آج کی عدلیہ اپنی سماعت میں 2017 میں ان کی نااہلی اور اس کیلئے ہونے والی پلاننگ کا بھی نوٹس لے جو اب کھل کر سامنے آ چکی ہے جس کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کے بیان کو جواز بنایا جا سکتا ہے جنہوں نے وقت سے پہلے آشکار کر دیا تھا۔

کہ ان سے نواز شریف کے خلاف فیصلہ کیلئے جنرل فیض حمید نے رابطہ کیا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا اور اس حوالہ سے اپنی تیاریوں بارے بتایا یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اپنے وکلا سے مشاورت میں ہیں کہ عدالت عظمیٰ میں چھ ججز کے مکتوب کے حوالہ سے بننے والے بینچ میں فریق بنا جائے وہ آج کی صورتحال میں مایوس نہیں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک بنیادی فیصلہ کر لیا جائے تو سارے مسئلے حل ہو سکتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور ان میں مداخلت کا عمل ختم ہونا چاہئے بدقسمتی سے ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کے عمل نے ملک میں استحکام نہیں آنے دیا ۔جہاں تک نواز شریف کی سیاسی محاذ پر خاموشی کا سوال ہے تو ان کی یہ خاموش خاص حکمت عملی کا نتیجہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے جذبات و احساسات اور بیانات سے حکومت کیلئے پریشانی نہ ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حکومتی و سیاسی معاملات سے علیحدگی اختیار کئے ہوئے ہیں ان کی آج بھی اپنی جماعتی معاملات پر گہری نظر ہے اور اطلاعات یہ ہیں کہ وہ آنے والے حالات میں مسلم لیگ ن کی صدارت پھر سے سنبھال سکتے ہیں کیونکہ باوجود پارٹی کا صدر ہونے کے شہباز شریف کی بجائے پارٹی ذمہ داران اور کارکن نواز شریف کو ہی اپنا لیڈر اور صدر سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ خود شہباز شریف بھی اپنے بڑے بھائی کی بھاری بھر کم شخصیت کے نیچے دبے نظر آتے ہیں۔

اور وہ کوئی بھی بڑا حکومتی و جماعتی فیصلہ ان کی مرضی کے بغیر نہیں کرتے البتہ یہ بات ضرور ہے کہ وہ مہنگائی کے رجحان اور خصوصاً بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کو اپنی جماعت کی حکومتوں کے لئے چیلنج سمجھتے ہیں حالیہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں تین روپے کی کمی انہی کے دباؤ کا نتیجہ ہے اور وہ ن لیگ کی سیاسی بحالی کیلئے اپنا دباؤ بروئے کار لا رہے ہیں البتہ سیاسی محاذ پر وہ اس لئے متحرک نظر آ رہے کہ انہیں عوام کو بتانے کیلئے فی الحال کچھ نہیں جہاں تک حکومتوں میں ان کے کردار کا تعلق ہے تو بظاہر تو وہ حکومتوں پر دباؤ ڈال کر انہیں دفاعی محاذ پر نہیں لانا چاہتے البتہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو یہ بتاتے اور سمجھاتے نظر آتے ہیں کہ سیاست خدمت اور ڈیلوری کے ساتھ مشروط ہے اس کیلئے بہت کچھ کر کے دکھانا پڑتا ہے اور عوام کسی کے ساتھ بندھے نہیں رہتے بلکہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں لہٰذا کچھ کر کے دکھاؤ گے تو سیاست بھی مضبوط ہو گی حالیہ میٹنگ میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ وزیراعظم کیونکر نہیں بنے تو انہوں نے کہا کہ میں نے انتخابات سے چند روز پہلے کہہ دیا تھا کہ سادہ اکثریت نہ ملی تو میں وزیراعظم نہیں بنوں گا مخلوط حکومتوں میں فیصلے مشکل ہوتے ہیں مجھے اس پر کوئی ملال نہیں مجھے اﷲنے اور اس ملک کے عوام نے بہت عزت دی ہے ۔سازشوں کے سارے تانے بانے کھل چکے ہیں لہٰذا عدالت عظمٰی اگر ججز کے مکتوب پر سماعت کرنے جا رہی ہے تو پھر ہم بھی فریق بنیں گے اور پوچھا جانا چاہئے کہ 2017میں ایک چلتی حکومت کو کیونکر چلتا کیا گیا یہ پتہ چلنا چاہئے آخر کب تک یہ ملک تجربات کا متحمل ہوگا اگر عدلیہ فریق نہ بنتی تو میری حکومت نہیں جا سکتی تھی کیا اس وقت انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے کس نے انہیں ڈرایا دھمکایا اور من مانے فیصلے لئے کیا یہ ملک وقوم کی خدمت تھی کہاں ہیں وہ جج جو انصاف سے زیادتی کے مرتکب ہوئے یہ معاملہ چھپنے والا نہیں تھا کھل کر سامنے آ گیا اب اس حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا امتحان ہوگا۔ 

لاہور(محمد حسن رضا سے )مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت بندھی ہوئی ہے اور ہم تو نوزل ہیں، مجھے بتایا گیا اور پہلے ہی پتا چل گیا تھا کہ سب  بندوبست ہوچکا تھا اور پتا چل گیا تھا کہ میں وزیراعظم نہیں ہوں، ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ میں کیا لیکر عوام سے ملوں؟ کونسی کارکردگی ہے ؟ مہنگائی اور بجلی گیس کی قیمتوں کو نیچے لانے کے لئے شہبازشریف کو ٹاسک دیدیا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ن لیگ کے لئے بھی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے یہ باتیں گزشتہ چند روز میں سینئر صحافیوں اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنمائوں سے ہونیوالی ملاقاتوں میں کیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق نوازشریف نے کہا کہ حکومت کو ٹاسک دیدیا، خصوصی شہبازشریف کو ٹاسک دیا کہ مہنگائی کم کرنے اور بجلی گیس کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے بھر پور طریقے سے کام کریں،اگر ان پر کام نہ کیا تو سخت ری ایکشن آئے گا، انہوں نے کہا کہ بجلی گیس اور مہنگائی کم نہ ہوئی تو ہمارے لئے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔

ذرائع کے مطابق نوازشریف سے سوال کیا گیا کہ آپ اس بار رمضان میں سعودی عرب کیوں نہ گئے ؟ جس پر نوازشریف نے جواب دیا کہ کیا میں شہبازشریف کے ساتھ سعودی عرب جاتا اچھا لگتا ہوں، اس طرح جانا مناسب نہیں، شہبازشریف نے بہت مجبور اور تنگ کیا کہ آپ چلیں، لیکن میں نے جانے سے انکار کیا۔نوازشریف نے کہا کہ ن لیگ عوامی بڑی سیاسی جماعت ہے ، ان شاء اللہ قدم جمائیں گے ۔ نوازشریف سے سوال کیا کہ عوام کے سامنے کیوں نہ نکلے ؟ ملاقاتیں کیوں نہیں کررہے ؟ جس پر جواب دیا کہ کیا لیکر عوام کے سامنے نکلتے ؟ کیا ابھی کچھ رہ گیا ہے ؟ نوازشریف سے حکومت بارے سوال میں نوازشریف کا کہنا تھا کہ یہ بندھی ہوئی حکومت ہے اور ہم نوزل ہیں۔ بہت مسائل ہیں حکومت کے پاس چیلنجزہی چیلنجز ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف سے سوال کیا گیا کہ شاہد خاقان عباسی کا آپ سے بہت اچھا تعلق تھا، ابھی بھی اگر آپ رابطہ کریں تو وہ آپ کے ساتھ آجائیں گے جس پر نوازشریف نے کہا کہ یہ بات درست ہے ، اور نوازشریف نے اس فہرست میں شاہد خاقان عباسی کا نام لکھوا دیا جن سے مری میں جاکر رابطہ یا ملاقاتیں کرنی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اب وہ پارٹی کو منظم کرنے کے لئے خود میدان میں نکلیں گے جس کے لئے وہ ماڈل ٹائون ن لیگ کے دفتر میں ڈیرے لگائیں گے ۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں