ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا دورہ پاکستان،ٹائمنگ اہم

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا دورہ پاکستان،ٹائمنگ اہم

تجزیہ(سلمان غنی) ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ اسلام آباد کو جہاں پاک ایران تعلقات کے حوالہ سے نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے وہاں اس کی ٹائمنگ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

کیونکہ اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک تناؤ اور ٹکراؤ کی کیفیت ہے اور پاکستان کا یہ اعزاز رہا ہے کہ جب اسرائیل کی جانب سے شام کے دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملہ کا اقدام ہوا تو پاکستان نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے واضح کہا تھا ۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا دورہ پاکستان کیسا ہوگا اس کی ٹائمنگ کتنی اہم ہے اور اس دورہ کے اثرات عالمی سیاسی صورتحال پر کیا ہوں گے اور دورہ کو بعض عالمی قوتیں کس طرح دیکھیں گی  ویسے تو ہمسایہ ملک کے طور پر پاکستان کے ایران سے تاریخی تعلقات رہے ہیں اور ان میں اتار چڑھاؤ بھی آتا رہا ہے لیکن پھر بھی پاکستان اور ایران کے درمیان تناؤ کی صورتحال طاری نہ ہوئی اور ماضی قریب میں جب ایران کی جانب سے میزائل داغنے کا مواقع رونما ہوا تو پاکستان نے فوری طور پر ردعمل کے ذریعے یہ باور کرا دیا کہ ہم اپنی آزادانہ خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔اب جب پاکستان اپنی معیشت کے حوالہ سے سرگرم ہے اور ہمسایہ ممالک سے اچھے روابط اور معاشی سرگرمیوں میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے تو سعودیہ کے اعلیٰ سطحی وفد کے دورہ اسلام آباد کے بعد ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی اسلام آباد آمد کو معاشی حوالہ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے ا ور امکانات یہی ہیں کہ ایرانی صدر کے اس دورہ کے دوران پاک ایران تعلقات اور خصوصاً مختلف شعبہ جات میں تعاون کے ساتھ خصوصاً پاک ایران گیس پائپ لائن بارے کوئی حتمی پیش رفت ہو سکے گی ایرانی صدر کے اعزاز میں اسلام آباد اور لاہور میں بھی تقاریب کا اہتمام ہو رہا ہے اور اس موقع پر ایرانی صدر کے دورہ کو خالصتاً دوطرفہ تعلقات کے حوالہ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان نہیں چاہے گا کہ اس صورتحال کے اثرات خطہ کے دیگر ممالک پر ہوں جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ ایرانی صدر کے دورہ اسلام آباد کو مغرب اور خصوصاً امریکہ کیسے دیکھے گا تو بظاہر تو امریکہ اس پر ردعمل ظاہر نہیں کرے گا لیکن وہ یہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے قریب آئیں کیونکہ امریکہ ایران کا بڑا کردار نہیں دیکھنا چاہتا لیکن پاکستان کی مجبوری یہ ہے کہ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک ہیں ان کی سرحدیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں اور ہمسایہ ممالک کے درمیان معاشی مفادات اور آج کی صورتحال میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے اقدامات درکار ہیں جو باہم حکمت عملی سے ہی ممکن ہیں اور اس حوالہ سے پیش رفت ہو رہی ہے ایرانی صدر کے دورہ پاکستان پر ہو سکتا ہے کہ عالمی قوتیں براہ راست کوئی ردعمل نہ دیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اس پر نظر نہ رکھیں مذکورہ دورہ کے حوالہ سے یہ بات اہمیت کی حامل ہو گی کہ مختلف شعبہ جات میں تعاون اور اس حوالہ سے معاہدوں پر زور ہوگا تاکہ کوئی عالمی طاقت اس دورہ کا کوئی اور مقصد نکالنے کی کوشش نہ کرے البتہ مذکورہ دورہ میں دہشت گردی کے سدباب اور پاک ایران سرحد پر دہشت گردوں کے قلع قمع بارے مشترکہ حکمت عملی پر پیش رفت ہو سکتی ہے کیونکہ آج کی صورتحال میں پاکستان نہیں چاہے گا کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال ہو اور ایران کے لئے بھی اس کی سرزمین پر دہشت گردی ان کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے ،ہمارے ایران سے تاریخی تعلقات ہیں اور ایک پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ہم اس سے قطع تعلقی نہیں رکھ سکتے البتہ تعلقات کا یہ عمل تجارتی اقتصادی اور تزویراتی تعلقات تک محدود ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں