پنجاب اسمبلی :مفاد عامہ کی 4قراردادیں منظور،اپوزیشن کااحتجاج

 پنجاب اسمبلی :مفاد عامہ کی 4قراردادیں منظور،اپوزیشن کااحتجاج

لاہور(سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی میں مفاد عامہ سے متعلقہ خلفائے راشدین کے ایام سرکاری سطح پر منانے کی قرارداد سمیت 4قراردادیں متفقہ منظور کرلی گئیں۔

پنجاب اسمبلی کااجلاس ایک گھنٹہ 38 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنڑ کی زیرصدارت شرو ع ہوا، آغازپر اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے نعرے لگائے ۔ وقفہ سوالات پر امجد جاوید و دیگر اپوزیشن ارکان نے وزیر بیت المال و سماجی بہبود سہیل شوکت بٹ کی کارکردگی کوسراہا ۔ سوالات پرسہیل شوکت کا کہنا تھا کہ پنجاب میں45ہزار افراد کو ہمت کارڈ دے چکے ہیں، 30 ہزار سپیشل افراد کو سٹنٹ ڈیوائس دی جائینگی،ایک ارب سے 30 ہزار خواتین کی شادیاں کر ائینگے ، بے سہارا خواتین دارالفلاح میں رہ سکتی ہیں،بینظیر شہید کرائسس سنٹر وحدت روڈ لاہور کو آئیڈیل سنٹر بنائینگے ۔اجلاس میں اپوزیشن رکن آصف علی اور پارلیمانی سیکرٹری رشدہ لودھی میں گرما گرمی ہوگئی،اپوزیشن رکن کا کہنا تھا سرگودھا کے زخمی جاوید کو لاہور جنرل ہسپتال میں علاج سے انکار کیاگیا، رشدہ لودھی نے کہا مریض نے خود لکھ کر دیا یہاں علاج نہیں کرانا چاہتا، برائلرگوشت کی قیمتوں پر حکومتی رکن راجہ شوکت بھٹی نے بحث کی اجازت نہ دینے پر احتجاج شروع کردیااور کہا تحریک پر بحث کی اجازت دی جائے ۔ رکن اسمبلی امجد جاوید نے پیف سے متعلقہ بل ، آغا علی حیدر اور خان بہادر نے کمالیہ یونیورسٹی بارے ترمیمی بل اور حنا پرویز نے دی پنجاب ایسڈ کنٹرول بل2025ایوان پیش کئے ، تینوں بل متعلقہ قائمہ کمیٹیز کے سپرد کرکے سپیکر نے دو ماہ میں رپورٹ مانگ لی۔ حمیدہ میاں کی اوورسیزپاکستانیز، بلال یاسین کی سکول ٹیچر صوفی عبدالعزیز کو خدمات، محمد الیاس کی خلفائے راشدین کے ایام سرکاری سطح پر منانے اور قدسیہ بتول کی معذور افرادسے متعلقہ قراردادیں منظور کرلی گئیں۔ایجنڈا مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس آج دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں