نیابلدیاتی بل کل پنجاب اسمبلی سے منظور کرانے کا فیصلہ:یوسی سطح پر مصالحتی کمیٹی کے قیام کی شق شامل
یونین کونسل بحال ، سات لاکھ سے زائد آبادی والے علاقوں میں ٹاؤن کارپوریشنز قائم ہونگی،مالی اختیارات بھی دیئے جائینگے مقامی حکومتوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے چلانے کا اختیار ،امیدوارکو30 دن میں سیاسی جماعت جوائن کرناہوگی
لاہور(محمد حسن رضا سے )پنجاب حکومت نے مقامی حکومتوں سے متعلق نیا بل(لوکل گورنمنٹ بل 2025 )کل سوموار کو پنجاب اسمبلی سے پاس کروانے کا فیصلہ کر لیا ۔ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی لوکل گورنمنٹ بل 2025 کی منظوری دے چکی۔ روزنامہ دنیا کو موصول نئے بلدیاتی بل کے مطابق یونین کونسل سسٹم بحال کرے گا، لاہور ضلع کو مکمل طور پر شہری علاقہ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے ، بل کا مقصد سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے ۔ سات لاکھ سے زائد آبادی والے علاقوں میں ٹاؤن کارپوریشنز قائم ہونگی۔بل کے متن کے مطابق یونین کونسل ایک یا زائد مردم شماری بلاکس پر مشتمل ہوگی۔ یونین کونسل کو بجٹ تیار کرنے اور منظور کرنے کا اختیار دیا گیا۔ یونین کونسل ٹیکس، فیس اور جرمانے وصول کر سکے گی۔ یونین کونسل سطح پر مصالحتی کمیٹی کے قیام کی شق شامل کی گئی ہے ۔مقامی حکومتوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے چلانے کا اختیار ہوگا ،منتخب امیدواروں کو گزیٹ نوٹیفکیشن کے 30 دن میں سیاسی جماعت جوائن کرنے کی اجازت ہوگی، لوکل ٹیکسوں کیخلاف شہری 45 دن کے اندر کمیشن میں اپیل کر سکیں گے ۔ کمیشن کو غیر منصفانہ ٹیکس معطل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ، سی بی او کو ترقیاتی منصوبوں میں 20 فیصد شراکت اور 80 فیصد فنڈ حکومت سے ملے گا ، کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز کو غیر منافع بخش ادارہ قرار دے دیا گیا۔ سی بی او کے اثاثے صرف ادارے کے مقاصد کیلئے استعمال ہوں گے ، ممبران میں منافع یا بونس تقسیم نہیں ہوگا ۔
بل کے متن کے مطابق کمیشن کو غیر منصفانہ مقامی ٹیکسز کی سماعت اور فیصلے کا اختیار دیا گیاہے ۔ شیڈولز میں \\\'ex-officio general members\\\' کی اصطلاح شامل کی گئی۔ قصابی خانوں کی فراہمی، انتظام اور دیکھ بھال مقامی حکومت کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے ۔ لوکل گورنمنٹ قصابی خانوں کو آؤٹ سورس کر سکتی ہے ،معاہدہ کم از کم تین سال کا ہوگا ،نجی مارکیٹیں صرف لائسنس کے ساتھ چل سکیں گی، غیر قانونی مارکیٹس پر پابندی ہوگی ۔ لوکل گورنمنٹ کو زمین کے استعمال کا منصوبہ (Land Use Plan)تیار کرنے کا اختیار دیا گیا، سائٹ ڈیویلپمنٹ سکیم کی خلاف ورزی پر غیر مجاز عمارتیں مسمار کی جا سکیں گی ، معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔اگر کوئی منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہ ہوا تو مقامی حکومت خود اس کی تکمیل سنبھال لے گی ۔ سڑکوں، عوامی جگہوں اور کچرے کی صفائی کا انتظام مقامی حکومت کی ذمہ داری ہوگا ، پبلک بیت الخلاء کی فراہمی ضروری ہوگی ،صاف پانی کی فراہمی مقامی حکومت کی ذمہ داری ہوگی، مقامی حکومت عوامی ندی نالوں، ٹینکس اور تالابوں کی کھدائی و بحالی کر سکے گی۔ واضح رہے نیا بل پہلے ہی پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی سے منظوری حاصل کر چکا ۔کل بروز سوموار کو بل کی منظوری حکومت کیلئے بڑا سیاسی امتحان بن گئی،الیکشن کمیشن نے حکومت کو پرانے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت انتخابات کرانے کا حکم دے رکھا ہے ،پنجاب حکومت اب نئے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کے تحت ہی بلدیاتی الیکشن کرانے کا ارادہ رکھتی ہے ،بل کی منظوری سے الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت میں نیا قانونی تنازع جنم لے سکتا ہے ۔ حکومت نئے بل کے ذریعے مقامی اداروں پر مکمل انتظامی کنٹرول چاہتی ہے ۔