احتجاجی مظاہرے:ٹرمپ کی ایران میں مداخلت کی دھمکی :ہاتھ کاٹ دینگے:ایرانی حکومت

احتجاجی مظاہرے:ٹرمپ کی ایران میں مداخلت کی دھمکی :ہاتھ کاٹ دینگے:ایرانی حکومت

ایران نے پرامن مظاہرین پر تشددیا قتل کیا تو امریکا بچانے کیلئے آئیگا :امریکی صدر ،ٹرمپ کے بیان سے امریکی سرگرمیاں واضح :علی لاریجانی ،دھمکی لاپروا اور خطرناک :عباس عراقچی ایرانی قوم امریکا کے دوسروں کو بچانے کے تجربات سے بخوبی واقف ، چاہے وہ عراق ،افغانستان یا غزہ ہو:علی شمخانی ،مہنگائی کیخلاف احتجاج اور جھڑپیں جاری ،6افراد ہلاک ہو چکے

واشنگٹن ،تہران (اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں مظاہرین پر تشدد کی صورت میں امریکی مداخلت پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا ہے ،ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ایران نے پرامن مظاہرین پر تشدد یاقتل کیا تو امریکا ان مظاہرین کے بچاؤ کیلئے آئے گا،جس پر ایرانی حکومت کاکہناہے کہ ایران کی جانب بڑھنے والا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دھمکی دی کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین پر تشددکیا یا انہیں قتل کیا تو امریکا ان کے بچاؤ کیلئے آئے گا۔انہوں نے لکھا کہ ہم مظاہرین کو بچانے جانے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔امریکی صدر کی دھمکی پر ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔

علی شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قوم امریکا کی جانب سے دوسروں کو بچانے کے تجربات سے بخوبی واقف ہے ، چاہے وہ عراق ہو، افغانستان ہو یا غزہ۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کو لاپروا اور خطرناک قرار دیا اورایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ٹرمپ کا پیغام ممکنہ طور پر ان لوگوں سے متاثر ہے جو سفارت کاری سے ڈرتے ہیں یا غلطی سے اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔عباس عراقچی نے کہاکہ امریکا میں ہونے والے احتجاج بہت پرامن تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی شہروں میں نیشنل گارڈز تعینات کردئیے تھے ۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر انگریزی زبان میں ایکس پراپنی پوسٹ میں کہا کہ اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے بیانات کے بعد پردے کے پیچھے ہونے والی سرگرمیاں اب واضح ہو چکی ہیں۔ ایران مظاہرہ کرنے والے تاجروں کے مؤقف اور ہنگامہ آرائی کی کارروائیوں میں واضح فرق کرتا ہے ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی اور امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچائے گی۔ امریکی عوام کو جان لینا چاہئے کہ اس مہم جوئی کی ابتدا خود ٹرمپ نے کی ہے ، لہٰذا انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہئے ۔ علی لاریجانی نے کہا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہے ۔یاد رہے کہ ایران میں گزشتہ کئی روز سے مہنگائی اور کرنسی کی قدر گرنے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 6 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 30 مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ۔ایرانی حکام کا کہناہے کہ گرفتار کئے گئے 7افراد کا بیرون ملک سے رابطہ تھا۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے لورِستان، فسا اور ازنا شہر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں ، کئی شہروں میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر بھی دھاوا بولا، پولیس سٹیشن نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ، ربڑ کی گولیوں اورآنسو گیس کا استعمال کیا۔یاد رہے کہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی ریال مسلسل گراوٹ کا شکار ہے جس کی وجہ سے مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں