برآمدات میں کمی،6ماہ ملکی تجارتی خسارہ19ارب ڈالر سے بھی زیادہ

برآمدات میں کمی،6ماہ ملکی تجارتی خسارہ19ارب ڈالر سے بھی زیادہ

درآمدی پالیسی میں نرمی کے باعث دسمبر کا تجارتی خسارہ 24 فیصد کے قریب بڑھا، برآمدات پر2ارب 31 کروڑ ، درآمدات پر 6 ارب 2کروڑ خرچ جولائی تا دسمبر برآمدات پچھلے سال سے 8اعشاریہ 7 فیصد گھٹ کر 15ارب ڈالر ، درآمدات 11اعشاریہ 28 فیصد بڑھ کر 34 ارب ڈالر رہیں:ادارہ شماریات

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت کی جانب سے درآمدی پالیسی میں نرمی کے بعد ملکی درآمدات میں مسلسل اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث ملکی تجارتی خسارہ 6 ماہ میں 19 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوگیا،جبکہ صرف دسمبر کا تجارتی خسارہ 24 فیصد کے قریب بڑھا۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے 6 ماہ (جولائی تا دسمبر)میں تجارتی خسارے کا حجم 19 ارب 20 کروڑ ڈالر رہا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 14 ارب27 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 34اعشاریہ 6 فیصد زیادہ ہے ۔ دسمبر میں تجارتی خسارہ 3ارب 70 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو نومبر کے 2 ارب 88کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 28اعشاریہ 4 فیصد اور دسمبر 2024 کے 2 ارب 99کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 23اعشاریہ 8 فیصد زیادہ ہے ۔

اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ملکی برآمدات کا حجم 15 ارب18کروڑ 40 ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 16 ارب 63 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 8اعشاریہ 7 فیصد کم ہے ۔ دسمبر میں ملکی برآمدات کا حجم 2ارب 31 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو نومبر کے 2 ارب 42 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 4اعشاریہ 3 فیصد اور دسمبر 2024 کے 2 ارب 91 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 20اعشاریہ 4 فیصد کم ہے ۔ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں پاکستان کا درآمدی بل 34ارب 38کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 30 ارب 90 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 11اعشاریہ 3 فیصد زیادہ ہے ۔ دسمبر میں درآمدات پر 6 ارب 2کروڑ 20 لاکھ ڈالر زرمبادلہ خرچ ہوا جو نومبر کے 5اعشاریہ 30 ارب ڈالر کے مقابلے میں 13اعشاریہ 5 فیصد اور دسمبر 2024 کے 5اعشاریہ 90 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں