شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر نہیں کی ہوگی:رانا ثنا

شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر نہیں کی ہوگی:رانا ثنا

المیہ یہ ہے کہ جن پانچ بڑوں کی بات میں کر رہا ہوں ان میں سے ایک ایسا شخص ہے جو ڈائیلاگ کے عمل پر یقین ہی نہیں رکھتا کوئی یہ سمجھتا ہے بات اسکے ایجنڈا، شرائط پر ہوگی تو ایسا نہیں ہوگا ،بلیک میلنگ میں آنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا،دنیا نیوز سے گفتگو

لاہور(سلمان غنی)وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اﷲکا کہنا ہے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکراتی عمل کی بات ہر حوالے سے سنجیدہ تھی اور یہ نہیں ہو سکتا وزیراعظم شہباز شریف نے اتنی بڑی پیشکش اسٹیبلشمنٹ ، اپنی لیڈر شپ اور صدر مملکت کی مرضی کے بغیر کی ہو لیکن المیہ یہ ہے کہ جن پانچ بڑوں کی بات میں کر رہا ہوں ان میں سے ایک ایسا شخص ہے جو ڈائیلاگ کے عمل پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ لہٰذا اس کے مائنڈ سیٹ کو بدلے بغیر کیسے آگے چلا جاسکتا ہے ایک طرف وہ اپنے اتحادیوں کو مذاکرات کیلئے سگنل بھیجتا ہے تو دوسری طرف اپنے وزیراعلیٰ کو سٹریٹ پاور بروئے کار لانے کا عندیہ دے کر دوسرے صوبوں میں بھجواتا نظر آتا ہے تو پھر اس کیفیت میں کیسے مذاکرات اور کیسی پیشرفت۔ میں ایک سیاسی کارکن کے طور پر پورے یقین سے کہتا ہوں کہ مذاکرات اور مفاہمت میں بڑی رکاوٹ وہی شخص ہے جو خود اپنی جماعت کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے اور ملک میں افراتفری پھیلانے پر بضد ہے لیکن اس کے مذموم عزائم پورے نہیں ہوں گے ۔

دنیا نیوز سے خصوصی بات چیت کر تے ہوئے رانا ثنا اﷲنے مزید کہا ماضی میں شدید اختلافات کے باوجود سیاسی قوتیں آپس میں ملتی بھی تھیں اور اہم ایشوز پر ملکر چلتی بھی تھیں لیکن پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کی سیاست سیاسی طرز عمل پر یقین ہی نہیں رکھتی یہ سمجھتے ہیں کہ احتجاج اور مزاحمت سے ہرچیز تہہ وبالا کر دیں گے تو اب وہ دور گیاپلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے آج ریاست اور حکومت نے ملکر پاکستان کو مشکلات سے نکالا،بھارت جیسے دشمن کے خلاف بڑی جنگ جیتی ،دنیا بھر میں پاکستان کی پذیرائی ہو رہی ہے ،یہی وجہ ہے ہم اندرون ملک بھی سیاسی استحکام چاہتے ہیں ،وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ سمیت متعدد بار مذاکرات اور مفاہمت کی بات کی لیکن ہر بار پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے اس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہوگا کوئی شخص بھی بانی پی ٹی آئی کا گارنٹر بننے کو تیار نہیں اور اس شخص کے طرز عمل نے خود اپنی پارٹی کو امتحان میں ڈال رکھا ہے ۔

انہوں نے کہا ہم آج بھی مذاکراتی عمل کے خواہاں ہیں لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے بات اس کے ایجنڈا اور شرائط پر ہوگی تو ایسا نہیں ہوگا ہم سیاسی ایشوز پر بات کرنے اور پاکستان کے مفاد میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں لیکن کسی کی بلیک میلنگ میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دریں اثناء ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں، مذاکرات کے لیے ابہام حکومت نہیں، دوسری طرف سے ہے ۔ ایسا نہیں ہوسکتا وزیراعظم نے مذاکرات کی پیش کش کرنے سے پہلے نواز شریف یا اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہ لیا ہو۔انہوں نے کہا سیدھی بات کریں کہ آپ مذاکرات کے حق میں نہیں اور تشدد چاہتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار کسی کو نہیں دیا، علیمہ خان نے بھی یہی کہا تھا کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ان میں سے نہیں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں