’’5شخصیات کچھ طے کر لیں تو استحکام آسکتا لیکن یہ ممکن نہیں‘‘

’’5شخصیات کچھ طے کر لیں تو استحکام آسکتا لیکن یہ ممکن نہیں‘‘

عمران خان کو ریلیف ن لیگ، پی پی کا نقصان،یہ کیسے ایک صفحے پر آئیں گے حامی بھی سمجھتے خان ادارے کیلئے ٹھیک نہیں،آج کی بات سیٹھی کے ساتھ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ نے جن بڑے ناموں کا ذکر کیا ہے اگر یہ 5لوگ اکٹھے ہوجائیں اور کچھ طے کرلیں کہ آگے کیسے بڑھنا  ہے تو استحکام آسکتا ہے ،یہ سب چاہتے ہیں کہ عمران خان کی کسی نہ کسی طریقے سے رہائی ہو ،وہ اپنی ذمہ داری اٹھائیں کہ کس طریقے سے مل کر کام کو آگے چلانا ہے ،ایک چارٹر آف ڈیموکریسی ہوجائے جس میں اس بار پانچواں شخص بھی شامل ہوجائے گا تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ سب نے مل کر آگے کیسے چلنا ہے ،اگر یہ تجویز اچھی ہے اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے ،سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے ، ممکن اس لئے نہیں کیونکہ اس میں دو بڑی پاورفل شخصیات شامل ہیں،دو سیاسی جماعتیں ہیں ان کا فائدہ یا نقصان ہے ،یہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی ہے۔

جو دو بڑی شخصیات ہیں ان میں ایک عمران خان ہوگیا، ایک وہ ہے جن کا نام نہیں لیا جارہا،سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ایک صفحے پر آئیں گے ،اگر کہیں نہ کہیں عمران خان کو ریلیف ملتا ہے تو اس کا نقصان ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو ہے ،یا یہ بھی ہے عمران خان کو رعایت ملنے سے ہوسکتا ہے کہ کسی اور جگہ سے نقصان ہوجائے ،یہی وجہ ہے کہ کوئی ٹرسٹ نہیں ہے ،ایک کے سیاسی مفاد ہیں دوسرے کا کہیں ٹرسٹ نہیں ہے ،سیاسی مفاد یہ ہے کہ اگر فیئر اینڈ فری الیکشن ہوتے ہیں توان سیاسی جماعتوں کا نقصان ہوجائے گا تویہاں مفادات کا ٹکراؤہے ،خان صاحب نے ایک مسئلہ پیدا کردیا ہے ، ایک تو یہ ہے کہ انہوں نے ذاتی لڑائی لے لی ہے ،دوسرا یہ ہے کہ اس ذاتی لڑائی میں ادارے کو ٹارگٹ کیا ہے ،اگر عمران خان واپس آتے ہیں تو ادارے کیلئے مسائل پیدا کریں گے۔

عمران خان کو چاہئے تھا کہ ادارے کو ٹارگٹ نہ کرتے ،ادارے کے اندر لوگ ہیں،کئی ایسے ہیں جو عمران خان کے حامی تھے ،جن میں ان کی فیملی بھی شامل تھی،انہوں نے عمران خان کوووٹ بھی ڈالا تھا،پی ٹی آئی کے سپورٹر بھی تھے ، ان میں سے بہت سے لوگ اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خان ادارے کیلئے ٹھیک نہیں ہے ، فرض کریں الیکشن ہوتے ہیں عمران خان جیت جاتے ہیں پھر وہ وزیر اعظم بن جاتے ہیں ،پھر بھی عمران خان آرمی چیف کو ہلا نہیں سکیں گے ، مگر ایشو صرف چیف کا نہیں رہا بلکہ ایشو ادارے کا بن گیا ہے ، ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ عمران خان اب ادارے کیلئے اچھے نہیں رہے ،یہ جب ادارے کیلئے اچھے نہیں تو پاکستان کیلئے بھی اچھے نہیں ہیں۔اگر الیکشن ہوتا ہے تو کیا پتہ پنجاب میں لوگ وزیراعلیٰ کی جانب سے کئے جانیوالے اچھے کام بھول جائیں اور وہ جو ایک ذہن کے اندر چڑھا ہوا ہے کہ \"عمران کو ایک دفعہ ووٹ دینا ہے \"۔۔تو پھر کیا ہوگا؟؟؟۔۔تو کوئی حل تلاش کرنے میں بہت سارے مفاد وابستہ ہیں،عمران خان کے پاس کوئی حل نہیں ہے ،ان کے پاس بھی کوئی حل نہیں ہے ،اب سارے کہہ رہے ہیں کہ باتیں کریں، باتیں کیا ہوسکتی ہیں،بات ایک ہی ہوسکتی ہے جسے قبول کرنے کیلئے عمران خان تیار نہیں ،بات یہ ہوسکتی ہے تم چپ کرکے بیٹھ جاؤ، اس حکومت کی یہ مدت پوری کرنے دو،ہم ترامیم لائیں اس کو بھی سپورٹ کریں،ان چیزوں پر عمران خان بالکل تیار نہیں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں