تیل کی جنگ میں تیزی:امریکانے روسی آئل ٹینکر تحویل میں لے لیا وینزویلا سے کروڑوں بیرل تیل لینے کا اعلان یہ غنڈہ گردی:چین،عالمی منڈی میں قیمتیں گرگئیں

تیل کی جنگ میں تیزی:امریکانے روسی آئل ٹینکر تحویل میں لے لیا وینزویلا سے کروڑوں بیرل تیل لینے کا اعلان یہ غنڈہ گردی:چین،عالمی منڈی میں قیمتیں گرگئیں

امریکا کا عبوری حکومت پر اثر و رسوخ ہے ،وینزویلا کے فیصلے واشنگٹن کی رہنمائی میں ہوں گے :وائٹ ہاؤس،ان کے ملک پر کوئی غیر ملکی طاقت حکمرانی نہیں کر رہی: وینزویلین عبوری صدرڈیلسی روڈریگِز ٹرمپ وینزویلا میں تیل کا شعبہ فعال بنانے کیلئے کل امریکی کمپنیز سے میٹنگ کرینگے ،امریکا کیساتھ خام تیل کی فروخت پر مذاکرات جاری :وینزویلین کمپنی ، غیر معینہ مدت تک کنٹرول کرینگے : امریکی وزیر توانائی

واشنگٹن(اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ)تیل کی جنگ میں تیزی،امریکا نے شمالی اٹلانٹک میں روسی آئل ٹینکر تحویل میں لے لیا،امریکی فوج نے بدھ کو کیریبین سمندر میں بغیر پرچم والا ایک اور ٹینکر بھی ضبط کر لیا، یہ ایک دن میں دوسرا جہاز ہے جس پر امریکی افواج نے قبضہ کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا سے کروڑوں بیرل تیل لینے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں،صدر ٹرمپ کے اقدامات پر چین کا کہنا تھا یہ غنڈہ گردی ہے ۔تفصیلات کے مطابق امریکی فوج اور کوسٹ گارڈ نے بدھ کو شمالی اٹلانٹک میں روسی پرچم والا آئل ٹینکر ’’مارینیرا‘‘ تحویل میں لے لیا ، امریکا کئی ہفتوں سے اس ٹینکر کے تعاقب میں تھا۔روس نے بحری جہاز اور آبدوز بھیج کر حفاظت کا عندیہ دیا تھا، مگر پھر بھی امریکا نے اسے قبضے میں لے لیا۔روسی ریاستی نشریاتی ادارے آر ٹی کے مطابق امریکی فورسز نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز پر اتر کر قبضہ کیا۔ آر ٹی نے ایک تصویر بھی شائع کی جس میں جہاز کے قریب ہیلی کاپٹر دکھائی دے رہا ہے ۔

روسی وزارتِ خارجہ نے امریکا پر زور دیا ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں واشنگٹن کے قبضے میں لیے گئے روسی پرچم والے تیل بردار جہاز کے روسی عملے کو جلد از جلد وطن واپس بھیجا جائے ۔ وزارت نے کہا ہے کہ اطلاعات ہیں کہ عملے میں روسی شہری موجود ہیں، لہٰذا امریکا کو ان کے انسانی حقوق اور مفادات کا احترام کرنا چاہیے اور ان کی فوری واپسی میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے ۔ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ عملے میں کتنے روسی شہری تھے ۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں امریکی فورسز کے قبضے میں آنے والا تیل بردار جہاز روسی پرچم والا نہیں بلکہ جعلی پرچم لہرانے کے بعد بے ملک قرار دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوِٹ نے کہا کہ یہ وینزویلا کا شیڈو فلیٹ جہاز تھا جو پابندی والے تیل کی ترسیل میں ملوث تھا۔ جہاز پر عدالتی قبضے کا حکم جاری تھا اور عملے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ قبضہ عالمی قوانین کے مطابق غیر قانونی تیل کی ترسیل روکنے کی کارروائی کا حصہ ہے ۔امریکی فوج نے بدھ کو کیریبین سمندر میں بغیر پرچم والا ایک اور ٹینکر بھی ضبط کر لیا، یہ ایک دن میں دوسرا جہاز ہے جس پر امریکی افواج نے قبضہ کیا۔

امریکا کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات پابندیوں والے ممالک سے غیر قانونی تیل کی نقل و حمل روکنے کے لیے کئے گئے ، امریکی افواج عالمی سمندری قوانین کے مطابق کارروائی کر رہی ہیں۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ پابندی شدہ اور غیر قانونی وینزویلا آئل پر پابندی دنیا بھر میں مکمل طور پر نافذ ہے ۔پابندی کا اطلاق صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ ہر جگہ ہے ۔علاوہ ازیں امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا سے کروڑوں بیرل تیل لینے کا اعلان کیا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا سے امریکا کو تین سے پانچ کروڑ بیرل تیل حاصل ہوگا، انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ تیل مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جائے گا ، اس سے حاصل ہونے والی رقم ان کے کنٹرول میں ہوگی تاکہ اسے وینزویلا اور امریکا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکے ۔ آئندہ 18 ماہ میں امریکی آئل انڈسٹری وینزویلا میں دوبارہ فعال ہو جائے گی اور ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آئے گی۔ وینز ویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کی انتظامیہ کی جانب سے اس بارے موقف سامنے نہیں آیا۔ٹرمپ کے اعلان کے بعددنیا بھر میں برینٹ اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتیں تقریباً ایک فیصد گِر گئیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے متعدد آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جس میں فوج کا استعمال بھی شامل ہے ۔وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کا حصول قومی سلامتی کی ترجیح ہے ۔ صدر اور ان کی ٹیم خارجہ پالیسی کے اس اہم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بہت سے آپشنز پر تبادلہ خیال کر رہی ہے اور یقیناً امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ کمانڈر انچیف کے پاس ایک آپشن ہوتا ہے ۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کے مطابق ٹرمپ گرین لینڈ کو قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے اہم سمجھتے ہیں تاکہ روس اور چین جیسے حریفوں کو روکا جا سکے ۔سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ اپنے موجودہ دور حکومت میں گرین لینڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے وہ اور ان کے مشیر مختلف آپشنز پر غور کررہے ہیں۔امریکی آپشنز میں ڈنمارک سے یہ علاقہ خریدنے یا جزیرے کے ساتھ آزادانہ وابستگی کا معاہدہ کرنے کے امکانات شامل ہیں۔ڈنمارک نے وائٹ ہاؤس کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہاامریکی اقدامات سے نیٹو کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے 8 جنگیں رکوائیں لیکن نیٹو کے احمق ناروے نے مجھے نوبیل امن انعام نہیں دیا، انہوں نے نیٹو ممالک کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، چین اور روس تو ایک ہی چیز سے ڈرتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں۔

بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر صدر ٹرمپ نے نیٹو، یوکرین جنگ، چین اور روس سے متعلق امریکی کردار پر تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مداخلت کے باعث نیٹو ممالک نے دفاعی اخراجات بڑھائے اور امریکا نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیا۔امریکی صدر نے کہا کہ نیٹو کے بیشتر ممالک ان کے اقتدار میں آنے سے قبل مجموعی قومی پیداوار کا صرف دو فیصد دفاع پر خرچ کر رہے تھے اور بیشتر ممالک اپنے واجبات ادا نہیں کر رہے تھے جب کہ امریکا زیادہ تر اخراجات برداشت کررہا تھا۔ ان کی کوششوں سے نیٹو ممالک نے دفاعی اخراجات پانچ فیصد تک بڑھائے اور اب فوری ادائیگیاں کر رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی مداخلت کے بغیر اس وقت روس پورے یوکرین پر قابض ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے تنِ تنہا 8 جنگوں کا خاتمہ کیا ۔ وائٹ ہاؤس نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ امریکا کا وینزویلا کی عبوری حکومت پر زیادہ سے زیادہ اثر و رسوخ ہے اور سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عبوری قیادت کو امریکا اپنی پالیسی کے تحت فیصلوں کے بارے میں ہدایت دے گا۔ ترجمان کیرولائن لیوِٹ نے کہا کہ عبوری حکام کے فیصلے امریکا کی رہنمائی میں ہوں گے ، جس سے واشنگٹن سیاسی اور اقتصادی امور پر کنٹرول مضبوط کرے گا۔

یہ تعاون و گفتگو جاری رہے گی، خاص طور پر تیل سیکٹر کے حوالے سے امریکی کمپنیوں کے مفادات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے ۔ وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگِز نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر کوئی غیر ملکی طاقت حکمرانی نہیں کر رہی،وینزویلا کی حکومت اپنے ملک میں ذمہ دار ہے ،کوئی اور نہیں،کوئی غیرملکی ایجنٹ حکومت نہیں کر رہا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی تیل کمپنیوں کے اعلیٰ افراد سے وینزویلا کے تیل شعبے کے بارے میں ملاقات کریں گے ۔ اس اجلاس کا مقصد وینزویلا کی تباہ حال تیل صنعت کو دوبارہ فعال بنانے اور امریکی کمپنیوں کو وہاں سرمایہ کاری اور صلاحیت کے استعمال پر گفتگو کرنا ہے ۔ متوقع طور پر ایکسون، شیورون اور کونکوفیلبز جیسے بڑے اداروں کے نمائندے شریک ہوں گے ۔ وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ خام تیل کی فروخت پر مذاکرات جاری ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی فریم ورک کے تحت کی جا رہی ہے ۔ دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے واضح کیا ہے کہ امریکا وینزویلا کے تیل کی فروخت کو غیر معینہ مدت تک کنٹرول کرے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں