سندھ :کچے میں ڈاکوؤں کیخلاف بڑا آپریشن شروع،پنجاب پولیس سے مدد لینے کا فیصلہ

سندھ :کچے میں ڈاکوؤں کیخلاف بڑا  آپریشن  شروع،پنجاب پولیس سے مدد لینے کا فیصلہ

فوج کی ضرورت پیش نہیں آئیگی، آئی جی سندھ خود آئی جی پنجاب اور آر پی او بہاولپور سے رابطہ کریں:وزیر داخلہ پولیس دستوں کی کچے اور پکے میں جدید ٹیکنالوجی، ڈرون سرویلنس ،انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے کارروائیاں

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ حکومت نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا ۔اس دوران پنجاب پولیس سے بھی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت سکھر اور لاڑکانہ رینجز میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ اور پنجاب پولیس کے باہمی تعاون سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور آئندہ بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری رہیں گے ۔ اس موقع پر آئی جی سندھ نے اجلاس کو ہدایات دیں کہ میگا آپریشن کے حوالے سے درکار وسائل پر مشتمل سفارشات جلد ارسال کی جائیں تاکہ حکومت سندھ کی جانب سے سپورٹ اور توثیقی اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے ۔

اس دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ کچے اور پکے کے علاقوں میں پولیس دستے مکمل طور پر متحرک اور مستعد ہیں، جدید ٹیکنالوجی، ڈرون سرویلنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کا مؤثر تعاقب کیا جا رہا ہے اور کچے کے علاقوں میں پولیس کی مستقل موجودگی سے جرائم کی بیخ کنی کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔وزیر داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ کو ہدایات دیں کہ وہ بذات خود آئی جی پنجاب اور آر پی او بہاولپور سے رابطہ کریں اور انہیں اعتماد میں لے کر مشترکہ میگا آپریشن کے حوالے سے بھی ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا، سندھ پولیس اس صلاحیت کی حامل ہے کہ حالات پر مکمل کنٹرول رکھ سکے ، فوج کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں