اپوزیشن لیڈر کا تقرر،سیاسی کارکنوں کو رہا،میڈیا سنسرشپ ختم کریں:قومی ڈائیلاگ اعلامیہ
نواز ،شہباز،زرداری کی مشاورت سے مذاکراتی کمیٹی بنائیں:نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی، ملکر بیٹھنا ہوگا:شاہد خاقان پی ٹی آئی کاخود مذاکرات کیلئے آگے نہ آنا بددیانتی:خواجہ آصف، وزیراعظم کا سپیکرکو پی ٹی آئی سے مذاکرات کا گرین سگنل
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)قومی ڈائیلاگ میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہاپوزیشن لیڈر کاتقرر، سیاسی کارکنوں کو رہااور میڈیا کی سنسرشپ ختم کی جائے ،اسلام آباد میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام قومی ڈائیلاگ میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، شیر افضل مروت، بیرسٹر سیف، عمران اسماعیل ،شہزاد وسیم اور دیگرشریک تھے ۔ سابق وفاقی وزیر فواد چودھری ، عمران اسماعیل اور مولوی محمود ڈائیلاگ کمیٹی کا حصہ ہیں۔اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اپوزیشن کمیٹی بنائی جائے جو سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کمیٹی کو بڑھائے ، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے ، سیاسی کارکنوں کی رہائی کے بعد حکومت پر اعتماد بڑھے گا۔
میڈیا کی سنسر شپ ختم کی جائے اور سیاسی افراد پر مقدمات ختم کیے جائیں۔نیشنل ڈائیلاگ میں بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہو گا۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے اپنے خطاب میں کہا ہم نے کبھی بھی قومی سلامتی کے تصور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی،بانی پی ٹی آئی کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا صلح حدیبیہ میں بھی ایسی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں، ڈائیلاگ کا عمل ہمیشہ سے ہی پائیدار نتیجہ دیتا ہے ۔بانی پی ٹی آئی نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، ڈائیلاگ بنیادی نظام پر ہونا چاہیے نہ کہ صرف بانی پی ٹی آئی اور کوٹ لکھپت کے قیدیوں تک ہو،میں پی ٹی آئی سے منتخب ہوا، میں نہ مانوں والی سوچ نے پارٹی کو اس حال پر پہنچایا ہے ، آپ ن لیگ کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتے ، آپ کو اے این پی، پیپلز پارٹی اور فواد چودھری سے کیا مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہا 27ویں ترمیم کے بعد عدلیہ اپنی آزادی کھو چکی ہے ، حل بھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عمل کون کروائے گا؟۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں کہا ملک میں انتشار ہوگا تو ملک ترقی نہیں کرے گا، سیاسی استحکام کے لیے سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔ ملک نہیں چل رہا، ملک کو چلانے کے لیے راستہ ڈھونڈنا ہوگا، حل تب نکلے گا جب سب اکٹھے بیٹھیں گے ۔ مسئلہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہیں ملک کی رہائی کا مسئلہ ہے ، حالات اتنے خراب ہیں لوگ خود ہی ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ سیاستدان، جوڈیشری، اسٹیبلشمنٹ سمیت سب کو بیٹھنا پڑے گا، ملک پر اشرافیہ کا قبضہ ہے ، اس طرح ملک نہیں چلتے ۔ ملک کے معاملات درست ہوں گے تو معیشت چلے گی اور بانی پی ٹی آئی کو بھی انصاف ملے گا، بیٹھ کر خرابیوں کو درست کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔ناقدین کے مطابق کانفرنس کا غیر معروف منظر تھا۔ پی ٹی آئی ،مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی ،تحریک تحفظ آئین پاکستان نے شرکت نہیں کی۔ڈائیلاگ میں زیادہ تر پارلیمان سے باہر کی جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے ۔ادھروزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلئے گرین سگنل دیدیا۔ذرائع کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف نے سپیکر سردار ایاز صادق کو گرین سگنل دیا ہے جبکہ حکومتی وفد سپیکر کی درخواست پر مذاکرات کیلئے تیار ہے ۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے ، غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے ۔
دوسری جانب سپیکر آفس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابطہ رابطہ نہیں کیا، اپوزیشن رضا مند ہوئی تو فوری طور پر سپیکر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے ۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں لیکن تحریک انصاف محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے ذریعے مذاکرات کرنا چاہتی ہے خود مذاکرات کیلئے آگے نہیں آنا چاہتے جو کہ بددیانتی ہے ،پی ٹی آئی مستقبل میں مذاکرات سے اظہار لاتعلقی کرسکتی ہے ، اس لئے تحریک انصاف کے لوگ ،پی ٹی آئی اور اتحاد میں شامل تمام جماعتیں مذاکرات میں شامل ہونی چاہئیں، انہوں نے کہا آئین میں گورنرراج کی گنجائش ہے اس کے استعمال پر تحفظات ہیں۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات پر کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، ہمارے اتحادی واضح طور پر مذاکرات کے حق میں ہیں۔مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حکومت اپوزیشن کے ساتھ سیاسی ڈائیلاگ اور جمہوریت کو آگے بڑھانے کیلئے بالکل تیار ہے ۔بانی پی ٹی آئی کہہ رہے ہیں وہ مذاکرات نہیں سٹریٹ موومنٹ چلانا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی پہیہ جام ہڑتال بُری طرح ناکام ہوگی، عوام ان کی ہڑتال کو بُری طرح مسترد کریں گے ۔