ڈیجیٹل ایجوکیشن منصوبہ ،لاگت4گنا بڑھ گئی،محکمہ خزانہ کے اعتراضات ،کام رک گیا

ڈیجیٹل  ایجوکیشن  منصوبہ ،لاگت4گنا  بڑھ  گئی،محکمہ  خزانہ  کے  اعتراضات ،کام  رک  گیا

پنجاب کے سرکاری سکولوں کیلئے کروڑوں کا منصوبہ اربوں میں تبدیل،پی سی ون کے بغیر کابینہ میں پیش ہوا ، کاغذی کارروائی تک محدد صوبے بھر کے سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ،48 فیصدسپورٹس گرائونڈز سے ہی محروم:سکول شماری رپورٹ

لاہور(محمد حسن رضا سے ،عاطف پرویز سے ) پنجاب حکومت کا ڈیجیٹل ایجوکیشن منصوبہ جس میں دعویٰ کیاگیاتھا کہ سرکاری سکول جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونگے ، آج خود سنگین سوالات کی زد میں ہے ۔گوگل ورک سپیس منصوبہ کی لاگت چند دنوں میں 49کروڑ سے 2ارب  41کروڑ روپے یعنی چار گنا بڑھ گئی، پی سی ون کے بغیر کابینہ میں پیش ہوا،پھر اعتراضات کے بعد حکومت کو یوٹرن لینا پڑا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب کے سرکاری سکولوں کیلئے کروڑوں کا منصوبہ جو اربوں میں تبدیل ہوا اور پھر کاغذوں میں ہی بحران بن گیا۔ پنجاب حکومت نے سکولوں میں ڈیجیٹل تعلیم متعارف کرانے کیلئے گوگل ورک سپیس منصوبہ تیار کیا جسکا مقصد تھا کہ اساتذہ اور طلبہ کو آن لائن کلاس روم، ای میل، ڈیجیٹل اسائنمنٹس اور کلاؤڈ سٹوریج جیسی سہولیات دی جائیں۔ دستاویزات کے مطابق منصوبے کی ابتدائی لاگت 49 کروڑ 95 لاکھ رکھی گئی مگر حیران کن طور پر چند ہی دنوں میں یہ لاگت بڑھتے بڑھتے 2 ارب 42 کروڑ تک جا پہنچی۔ یہ اربوں کا منصوبہ بغیر پی سی ون کے براہِ راست کابینہ میں پیش کر دیا گیا۔

نہ فیزیبلٹی سٹڈی ،نہ لاگت اور فائدے کا کوئی مالی تجزیہ ہوا،سمری کے دوران ہی منصوبے کا ڈیزائن اور سکوپ بدلتا رہا، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے منصوبے پر سخت تحفظات ظاہر کیے جبکہ محکمہ خزانہ پنجاب نے اسے مالی نظم و ضبط کے منافی قرار دے دیا۔ محکمہ خزانہ نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ سبسکرپشن بیسڈ ہے ،جو آئندہ برسوں میں حکومت کیلئے مستقل مالی بوجھ بن جائیگا۔محکمہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ صوبہ پہلے ہی آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالی دباؤ میں ہے اور سیلابی نقصانات کے بعد اضافی اخراجات کی گنجائش موجود نہیں ۔ ذرائع کے مطابق سمری کے دوران ہی منصوبے میں کروم بکس کی شمولیت کر دی گئی، جس سے لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اعتراضات بڑھنے پر حکومت کو یوٹرن لیتے ہوئے کروم بکس کا حصہ منصوبے سے واپس لینا پڑا، ادارہ جاتی اعتراضات کے بعد منصوبہ عملی طور پر روک دیا گیا اور یوں ڈیجیٹل تعلیم کا یہ منصوبہ انتظامی ومالی بحران کی مثال بن گیا۔

دوسری جانب محکمہ سکول ایجوکیشن کی سکول شماری رپورٹ میں پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کے شدید فقدان کے حقائق سامنے آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے تقریباً 48 فیصد سکول ایسے ہیں جہاں سپورٹس گرائونڈ موجود ہی نہیں۔12 فیصد سکولوں میں سیوریج سہولت نہیںم دو فیصد میں باؤنڈری وال کا وجود نہیں ،ایک فیصد سکول بجلی سے محروم ہیں، ایک فیصد میں پینے کا پانی اورایک فیصد میں ٹوائلٹ جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیوریج وواش رومز کی عدم دستیابی سکولوں میں صحت و صفائی کے مسائل کو جنم دے رہی ہے ۔ صورتحال پر ردِعمل میں ترجمان محکمہ تعلیم نے کہاسکولوں میں سہولیات کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے ۔ تمام اضلاع کو ترقیاتی بجٹ جاری ہو چکا ہے اورسی ای اوز کو 3 ماہ میں سہولیات فراہمی کا ٹاس دیا گیا ہے ۔ جن سکولوں میں سپورٹس گراؤنڈز نہیں وہاں دستیابی جلد یقینی بنائی جائیگی۔ فرنیچر، کلاس رومز، واش رومز، بجلی، پانی ، سیوریج سسٹم و دیگر بنیادی سہولیات فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں