نئے صوبوں کا آغاز بہاولپور بحالی سے ہونا چاہئے :احمد محمود
مریم نواز کے میرٹ اور سنگین جرائم کے خاتمے کیلئے اقدامات لائق تحسین ہیں سیاست میں ضد اور ہٹ دھرمی نہیں چلتی ،وطن واپسی پر دنیا نیوز سے گفتگو
لاہور (سلمان غنی)پنجاب کے سابق گورنر پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مخدوم سید احمد محمود نے ملک میں گورننس کے خواب کو حقیقت بنانے کے لئے نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا یہ عمل کسی کے روکے نہیں رکے گا اور اس ضمن میں سیاستدانوں کو از خود فیصلے کرنے چاہئیں ۔انہوں نے کہا ہمارا مطالبہ تو شروع سے بہاولپور صوبہ کی بحالی کا ہے اور اس حوالے سے پنجاب اسمبلی سے متفقہ قرارداد منظور ہو چکی ہے جس کی وجہ انتظامی ،جغرافیائی ،تاریخی ،آئینی اور سیاسی حقائق ہیں، اس کی بلاتاخیر بحالی ہونی چاہئے جبکہ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے لئے بھی قرارداد ریکارڈ پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور کے عوام کسی نئے صوبہ کی نہیں بلکہ اپنے صوبہ کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں اس ضمن میں پیش رفت میں کوئی قانونی قباحت نہیں ۔وہ گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر دنیا نیوز سے خصوصی بات چیت کر رہے تھے انہوں نے مزید کہا ضلعی حکومتوں کا سسٹم اگر مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل کا ضامن ہے تو پھر کیونکر بلدیاتی انتخابات نہیں ہوتے ، افسوس یہ کہ ہر جماعت بلدیاتی سسٹم اور اس کے لئے انتخابات کی بات کرتی ہے لیکن اس پر پیش رفت کے لئے تیار نہیں ہوتی ۔
مخدوم احمد محمود نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے گورننس ماڈل کی تعریف کرتے ہوئے کہا پنجاب میں امن و امان پوسٹگ ٹرانسفر کے عمل میں میرٹ ،سنگین جرائم کے خاتمے کے لئے اقدامات اور منشیات فروشی اور منشیات فروشوں کی بیخ کنی اور ستھرا پنجاب کے حوالے سے ان کے اقدامات لائق تحسین ہیں انہوں نے کہا کہ ملکی بقا و سلامتی کے حوالے سے کسی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں اگر دہشتگردوں اور دہشت گردی کے خلاف ریاست متحرک ہے تو مقصد پاک سرزمین کا تحفظ ہے اور اگر کوئی اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کو کنفیوژ کرتا ہے تو یہ عمل کسی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ۔ سیاست میں ضد اور ہٹ دھرمی نہیں چلتی اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ضد کی بنا پر ریاست سے ٹکرا سکتا ہے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس ایسی لیڈر شپ ہے کہ جسے اپنے سیاسی مفادات سے زیادہ ملکی مفادات عزیز ہیں ۔یاد رہے کہ مخدوم ا حمد محمود بیرون ملک علاج اور صحت یابی کے بعد واپس لاہور آئے تو ان کے گھر پر مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھا نظر آیا۔