ٹیکس ری فنڈمیں کوئی کوتاہی قبول نہیں:وزیر اعظم
زرعی برآمدات کو بڑھانے کا لائحہ عمل بنائیں،قرض کی فراہمی کو سہل کریں صوبوں کیساتھ ملکر جامع پالیسی بنائیں:شہباز شریف،آج کوئٹہ جائیں گے
اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات خصوصاً زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمد کنندگان کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیز کیا جائے ،برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوئی کوتاہی قبول نہیں، چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کا طریقہ کار مزید سہل بنایا جائے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار مختلف اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ملکی برآمدات میں اضافے سے متعلق جائزہ اجلاس میں انہو ں نے ہدایت کی کہ چاول کی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر حکمت عملی ترتیب دی جائے ۔
دریں اثنا چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار و چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سٹیٹ بینک کو ہدایت کی ہے کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروبار اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ معاون خصوصی ہارون اخترخان سمیڈا کی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کریں اور چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کو انٹرپرینیورشپ کی تربیت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔ مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزراکے ہمراہ آج بروز جمعرات کوئٹہ جائیں گے اور قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں کریں گے ، ان کی لیگی رہنماؤں کے ساتھ بھی اہم ملاقاتوں کا امکان ہے ۔ ملاقاتوں میں بلوچستان کی صورتحال و دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔