نواز شریف سمیت شکست خوردہ لوگوں کو شرم نہیں آتی؟اچکزئی
عوام نے کمال کر دیا تحریک انصاف کا انتخابی نشان ڈھونڈ ، ڈھونڈ کر ووٹ دیا یہ جھوٹ کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے ، میڈیا سے گفتگو اور وکلا سے خطاب
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ نوازشریف صاحب میرے دوست ہیں لیکن آپ جانتے ہیں کہ آپ غلط کر رہے ہیں،نواز شریف سمیت شکست خوردہ لوگوں کو شرم نہیں آتی؟۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آپ گھر میں اپنی بی بی جان، بیٹی جان اور بچوں کا کیسے سامنا کرتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ آپ الیکشن ہارے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے کمال کر دیا کہ تحریک انصاف جس کے پاس اپنی جماعت کا انتخابی نشان بھی نہیں تھا، اس کو ڈھونڈ ، ڈھونڈ کر ووٹ دیا۔محمود خان نے کہا کہ نہ شہباز شریف سے جھگڑا ہے اور نہ نواز شریف سے جھگڑا ہے ، دنیا کو چلانے کے لیے ایک نظام دیا ہوا ہے ، سب کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے ، نظام کو خراب نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ معذرت کے ساتھ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی تربیت ہی غلط ہے ، آپ کو اگر شوق ہے تو آئیں وہ کام چھوڑ کر آئیں لیکن ڈنڈے دھونس سے کام نہیں چلے گا۔ بے انصافی نفرتوں کو جنم دیتی ہے اور ہم نے بے انصافی کو ختم کرنا ہے ۔
ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، ظالم کے خلاف ہمارا ساتھ دیں اور اگر ساتھ نہیں دے سکتے تو دعا کریں۔ ادھر لاہورہائیکورٹ کے کراچی شہدا ہال میں وکلا سے خطاب میں محمود خان اچکزئی نے آٹھ فروری کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا اور کہا آٹھ فروری کو ملک بھر میں ہڑتال کریں۔ان کا کہنا تھا ملک میں آج تک کسی جرنیل، جج یا سیاست دان کو آئین کی خلاف ورزی پر سزا نہیں ہوئی۔آج بلوچ سردار، پنجابی چودھری ، سندھی وڈیرے اور پشتون عورت کو اس کا حق نہیں دیتے ، عورت اپنے باپ کے حکم پر ہر طرح کے مرد کے ساتھ گزارا کرتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو عوم کے حق پر ڈاکا مارا گیا، یہاں ظالموں کو پالا جاتا ہے ، یہ جھوٹ ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے ، قلعہ ایسے ہوسکتا ہے کہ اسلام اس قلعے میں قید ہو، اس نظام کو ہم نے منظم ہو کر نکالنا ہے کیونکہ مظلوموں کی تعداد کروڑوں میں ہے جبکہ ظالم لاکھوں میں ہیں۔احتجاج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ سوشل میڈیا پر اپنے رہنماؤں سے نالاں ہیں، آج سے مہم شروع کریں کہ ایک دن اپنی دکان بند کریں، 8 فروری کو سڑکوں پر نکلیں اور بھنگڑیں ڈالیں، پشتون بھی نکلیں اور سڑکوں پر بھنگڑے ڈالیں۔