قومی اسمبلی کی7قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس 5 ماہ سے تعطل کا شکار
اسلام آباد(نیوز رپورٹر)پارلیمنٹ کی کارروائی مؤثر انداز میں چلانے اور اراکین کے مسائل حل کرنے کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق گزشتہ ایک سال سے چیئرپرسن کے بغیر ہیں۔
چیئرمین کے تقرر نہ ہونے کے باعث متعدد قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس منعقد نہیں ہو سکے جس سے پارلیمانی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کی سات قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس گزشتہ تقریباً پانچ ماہ سے نہیں ہوئے ۔ اس وقت قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق، قائمہ کمیٹی برائے ریلوے اور خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے خالی ہیں جس کے باعث قانون سازی اور نگرانی کے امور تعطل کا شکار ہیں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے اراکین کے استعفے پانچ ماہ سے منظور نہیں ہو سکے ۔ ان جماعتوں کے جن اراکین کے پاس مختلف قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ ہے ، ان میں جاوید اقبال وڑائچ (دفاعی پیداوار)، محمد عاطف (اقتصادی امور ڈویژن)، عظیم الدین زاہد (وفاقی تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ)، ثناء اللہ مستی خیل (بین الصوبائی رابطہ)، حاجی امتیاز احمد چودھری (امور کشمیر)، ملک محمد عامر ڈوگر (مذہبی امور) اور خواجہ شیراز (سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) شامل ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے گزشتہ سال اگست میں سات قائمہ کمیٹیوں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفے دے رکھے ہیں جس کے بعد کئی اہم پارلیمانی فورمز غیر فعال ہو چکے ہیں۔