سندھ کا وفاق کیساتھ چلنے سے انکار، گندم پالیسی تعطل کا شکار

سندھ کا وفاق کیساتھ چلنے سے انکار، گندم پالیسی تعطل کا شکار

آئی ایم ایف سے طے شدہ فیصلوں پر عملدرآمد خطرے میں پڑنے کا خدشہ پنجاب حکومت کا درمیانی راستہ پیش،بلوچستان ،پختونخوا کا وفاق سے اتفاق

لاہور(محمد حسن رضا سے )سندھ حکومت کا این ایف سی کے بعد گندم پر بھی وفاق کے ساتھ چلنے سے انکار، قومی گندم پالیسی تعطل کا شکار ہوگئی۔ وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان پالیسی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ۔ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق وفاقی فارمولے کو ماننے سے انکار کے بعد سندھ حکومت نے اب گندم کی خریداری کے معاملے پر بھی وفاقی پالیسی مسترد کر دی ہے جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ فیصلوں پر عملدرآمد خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔ گندم کی اوپن مارکیٹ میں خریداری سے متعلق پالیسی پر ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں چاروں صوبوں کا اہم اجلاس ہوا ،تاہم اجلاس میں گندم پالیسی پر متفقہ فیصلہ نہ ہو سکا۔

اجلاس میں وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ پروگرام کے تحت گندم کی خریداری کا ماڈل واضح ہو چکا ہے ، جس کے مطابق حکومت کو براہ راست بڑے پیمانے پر خریداری سے نکلنا ہوگا، قیمتوں کا تعین مارکیٹ کرے گی اور حکومت کا کردار ریگولیٹر اور محدود سٹریٹجک ریزرو تک محدود رہے گا۔ اسحاق ڈار نے اجلاس میں واضح کیا آئی ایم ایف کے ساتھ یہ وعدے کیے جا چکے ہیں اور ان پر عملدرآمد ناگزیر ہے کیونکہ یہی مالی نظم، سبسڈی میں کمی اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کا واحد راستہ سمجھا جا رہا ہے ۔ تاہم اجلاس میں سب سے سخت اور دوٹوک مؤقف سندھ حکومت کی جانب سے سامنے آیا۔ سندھ حکومت نے وفاقی اوپن مارکیٹ پالیسی کے تحت چلنے سے صاف انکار کرتے ہوئے واضح کیا وہ گندم کی خریداری پرانے سرکاری طریقہ کار کے مطابق ہی کرے گی۔ سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ اوپن مارکیٹ اور نجی شعبے کے ذریعے گندم کی خریداری سے کسان کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ، قیمتوں میں بے یقینی بڑھے گی اور ذخیرہ اندوز فائدہ اٹھائیں گے ۔

اسی لیے سندھ حکومت سرکاری امدادی قیمت کے ذریعے براہ راست کسانوں سے خریداری، فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ذخیرہ ، سپلائی کنٹرول اور آٹے و گندم پر سبسڈی نظام برقرار رکھنے کی حامی ہے ۔دوسری جانب پنجاب حکومت نے گندم خریداری کیلئے مختلف اور نسبتاً درمیانی راستہ پیش کیا جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP)ماڈل قرار دیا جا رہا ہے ۔ پنجاب حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ 25 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا سٹریٹجک ریزرو قائم کرنا چاہتی ہے جو درآمدی قیمت کے مساوی یعنی امپورٹ پیریٹی پر رکھا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں گندم 3500 روپے فی 40 کلو گرام کے نرخ پر خریدی جائے گی اور یہ خریداری براہ راست کسان کے کھیت یا گھر سے کی جائے گی۔ پنجاب ماڈل کے تحت گندم کی خریداری، ریکارڈ اور ادائیگیاں مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوں گی۔ اجلاس میں ڈپٹی وزیراعظم نے اصولی طور پر پنجاب حکومت کے ماڈل سے اتفاق کا اظہار کیا تاہم سندھ حکومت نے اس پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا نجی شعبے اور اوپن مارکیٹ کے امتزاج سے کسان کو مکمل تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے وفاقی حکومت کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں