شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن میں صوبوں کا عدم تعاون،آئی ایم ایف ڈیڈ لائن قریب

شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن میں صوبوں کا  عدم تعاون،آئی ایم ایف ڈیڈ لائن قریب

اسلام آباد (مدثر علی رانا)شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے لیے آئی ایم ایف نے مارچ 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے اور جون تک حکومت کو شوگر سیکٹر سے مکمل طور پر نکلنا ہوگا۔

 تاہم اکتوبر 2025 سے وزیر توانائی اویس لغاری کی صدارت میں قائم کمیٹی کی تجاویز پر پیشرفت نہیں ہو سکی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار نے صوبوں کو خط لکھ کر صوبائی اسمبلیوں سے قانون سازی مکمل کرنے کی درخواست کی ہے لیکن صوبوں کی جانب سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ سرکاری عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وفاق صوبائی رسپانس کا منتظر ہے ۔ صوبوں کی جانب سے قانون سازی مکمل ہونے اور معاہدہ طے پانے کے بعد وفاقی کابینہ سے منظوری دی جائے گی۔ وزارت صنعت و پیداوار کے حکام کے مطابق صوبے بھی شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے لیے قائم کمیٹی کا حصہ ہیں اور صوبوں نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی ہیں، جس پر وفاق کو آگاہ کیا گیا ہے ۔

دستاویز کے مطابق ڈی ریگولیشن کے بعد کسانوں کو گنا اگانے یا نہ اگانے پر حکومت کی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہوگی اور وہ ملک بھر کی تمام شوگر ملوں کو گنا فروخت یا خود استعمال کر سکیں گے ۔ گنے کی قیمتیں مارکیٹ بیسڈ ہوں گی اور حکومت قیمتوں کا تعین نہیں کرے گی۔ گنے کی نقصان دہ ورائٹی کے لیے نیگیٹو لسٹ جاری کی جائے گی۔ نئے شوگر ملیں قائم کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی اور ملیں صاف گنا یا را میٹریل خریدنے کی مکمل آزادی رکھیں گی۔ شوگر ملز مارکیٹ ریٹ کے مطابق کہیں سے بھی گنے کی خریداری کر سکیں گی اور چینی تیار ہونے کے بعد قیمتوں کا تعین بھی مارکیٹ بیسڈ ہوگا۔ ڈی ریگولیشن کے بعد چینی کی برآمد پر پابندی ختم ہو جائے گی اور درآمد پر ٹیرف یا سبسڈی نہیں ہوگی۔شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے لیے وزیر توانائی اویس لغاری کی صدارت میں قائم کمیٹی میں وزیر خزانہ محمداورنگزیب، وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی، مشیر برائے صنعت و پیداوار، اکنامک افیئر ڈویژن کے حکام اور صوبائی چیف سیکرٹریز شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں