رائٹ سائزنگ پالیسی ، 826ملازمین سرپلس، ماہانہ 4کروڑ کی بچت

 رائٹ سائزنگ پالیسی ، 826ملازمین سرپلس، ماہانہ 4کروڑ کی بچت

اکثریت گریڈ 16تک کے ملازمین ، 530ملازمین دیگر محکموں میں ایڈجسٹ مقصد غیر ضروری اخراجات میں کمی سرکاری نظام کو زیادہ مؤثر ،نتیجہ خیز بنانا

 اسلام آباد ( حریم جدون )اخراجات میں کمی اور سرکاری ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لئے وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ پالیسی پر عملدرآمد جاری ، جس کے تحت مختلف وزارتوں اور محکموں کے 826ملازمین کو سرپلس قرار دیا گیا۔ ان میں سے 530ملازمین کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کر دیا گیا ، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو ماہانہ 3 کروڑ 99 لاکھ روپے کی بچت ہوگی ۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارتِ قومی غذائی تحفظ کے 650 ملازمین کو سرپلس قرار دیا گیا تھا، جن پر قومی خزانے کو ماہانہ 6 کروڑ 29 لاکھ روپے سے زائد کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔

اسی طرح وزارتِ انسانی حقوق میں 38، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 29 اور وزارتِ بین الصوبائی رابطہ میں 7 ملازمین سرپلس قرار دئیے گئے ۔دستاویزات کے مطابق وزارتِ کامرس کے 45 جبکہ وزارتِ کشمیر و گلگت بلتستان کے 57 ملازمین بھی سرپلس فہرست میں شامل تھے ۔ مجموعی طور پر سرپلس ملازمین کے اخراجات 8 کروڑ 92 لاکھ روپے ماہانہ سے زائد تھے ، تاہم 530 ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد یہ رقم نمایاں طور پر کم ہو گئی۔حکام کے مطابق سرپلس ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ کا عمل جولائی 2024 سے نومبر 2025 تک جاری رہا ۔ سرپلس ملازمین میں اکثریت گریڈ 16 تک کے ملازمین کی ہے ، جبکہ گریڈ 17 کے 9، گریڈ 18 کے 11 اور گریڈ 19 کے 2 افسران بھی شامل ہیں۔وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ رائٹ سائزنگ کا مقصد نہ صرف غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا بلکہ سرکاری نظام کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنانا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں