18ویں ترمیم کا خاتمہ :اصل لڑائی اختیار اور وسائل کی ہے

 18ویں ترمیم کا خاتمہ :اصل لڑائی اختیار اور وسائل کی ہے

پیپلزپارٹی ترمیم پر کسی قسم کا کمپرومائز کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آ رہی

(تجزیہ:سلمان غنی)

 18 ویں ترمیم بدلتے ہوئے حالات اور بڑھتے ہوئے مسائل میں خود حکومت اور حکومتی اتحادیوں کی زد میں ہے ، البتہ پیپلزپارٹی 18 ویں ترمیم پر کسی قسم کا کمپرومائز کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آ رہی۔ ماہرین 18 ویں ترمیم پر ہونے والی تنقید کو 28 ویں آئینی ترمیم کا پیش خیمہ قرار دیتے نظر آ رہے ہیں ،جن کا کہنا ہے کہ ملکی حالات ،مالی معاملات اب 18 ویں ترمیم کے متحمل نہیں ہوسکتے اور این ایف سی میں ترمیم نے صوبوں کی تشکیل اور خصوصاً بامقصد بلدیاتی سسٹم کیلئے اگر آگے بڑھنا ہے تو اس کیلئے نئی ترمیم کرنا پڑے گی ۔

ایم کیو ایم 18 ویں ترمیم کے خلاف آوازوں کے سلسلہ کا آغاز کر رہی ہے جس میں  گل پلازہ کے سانحہ پر قومی اسمبلی کے اندر آنے والے ردعمل سے اضافہ ہوا ۔کراچی کے میئر کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے لہٰذا گل پلازا کے سانحہ کا ملبہ بھی اب پیپلزپارٹی اور ان کی حکومت پر پڑ رہا ہے اور یہ سوال کھڑا ہوا ہے کہ اگر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنا صحیح کام کیا ہوتا تو ناجائز عمارات نہ بنتیں، دوسری جانب ایم کیوایم موقع کی تاڑ میں تھی اور اس نے گل پلازا کے سانحہ کو جواز بنا کر براہ راست 18 ویں ترمیم کو ٹارگٹ کرنے کا عمل شروع کردیا ہے ۔ انہوں نے کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا بھی مطالبہ کر دیا جو براہ راست پیپلزپارٹی پر سیاسی حملہ ہے ۔

ماہرین کے مطابق صوبوں سے اختیارات تو لئے تھے لیکن وہ ادارہ جاتی طور پر اس کیلئے تیار نہیں تھے ، جس کی وجہ سے تعلیم، صحت اور سماجی شعبوں میں کارکردگی تیز ہونے کی بجائے ابتری کا شکار رہی۔ ان کے مطابق 18 ویں ترمیم نے مالی توازن کو بگاڑ دیا اور مرکز کی مالی گنجائش سکڑتی گئی۔ 18 ویں ترمیم کے حق میں کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے صوبوں کو فیصلہ سازی میں حق ملا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صوبوں یا بلدیاتی سسٹم کے تحفظ کیلئے کوئی فیصلہ کیا گیا تو مسلم لیگ ن بوجہ ان کا ساتھ دے گی،18 ویں ترمیم کے اثرات کو قانونی پالیسی اور مالی دباؤ سے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے ،اس لئے کہ اصل لڑائی آئین کی نہیں اختیار اور وسائل کی ہے ۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ نئے صوبے ناگزیر ہیں، یہ کیسے بنیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں