بلوچستان ،فیصلہ کن کارروائی کی جائے :قومی اسمبلی میں قرارداد

بلوچستان ،فیصلہ کن کارروائی کی جائے :قومی اسمبلی میں قرارداد

یوم یکجہتی کشمیر پر بھی قرارداد منظور،انسانی حقوق خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کامطالبہ

اسلام آباد (نامہ نگار، سٹاف رپورٹر، دنیا نیوز) قومی اسمبلی میں بلوچستان حملوں کیخلاف اوریوم یکجہتی کشمیر پرمتفقہ قراردادیں منظور کر لی گئیں۔قومی اسمبلی نے بلوچستان کے  مختلف شہروں پر دہشت گردوں کے حملوں کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کا استحصال کر کے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔ قرارداد میں دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کے ساتھ فیصلہ کن عسکری و سفارتی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ،قرارداد ڈاکٹر طارق فضل کی جانب سے پیش کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابل معافی جرائم ہیں، ریاست سے ایسے عناصر کے خلاف عدم برداشت کے اصول کے تحت فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔ قبل ازیں نور عالم خان کا کہنا تھا کہ اس قرارداد میں خیبرپختونخوا کو بھی شامل کریں، دہشت گردی کے پی میں سب سے زیادہ ہو رہی ہے ۔

علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی، یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے قرار داد قواعد کو معطل کر کے پیش کی گئی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر ایک عالمی تنازع ہے ، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جائے ، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت 5 اگست 2019ء کے اقدام کو فوری واپس لے ، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے ۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا بلوچستان میں ظلم و زیادتی اور محرومی کا بیانیہ دہشت گردی کو چھپانے کے لیے بنایا جاتا ہے ۔ اس بدامنی کا مقصد پاکستان میں آنے والی سرمایہ کاری کو روکنا ہے ۔۔ بعدازاں ڈپٹی سپیکر نے اجلاس جمعہ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں