مذاکرات کل عمان میں ہونگے:امریکا،ایران کی تصدیق
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا ضروری انتظامات کرنے پر عمان سے اظہار تشکر مذاکرات صرف جوہری پروگرام ،پابندیوں کے خاتمے تک محدود رہیں گے :ایران
واشنگٹن،تہران(اے ایف پی ،رائٹرز، دنیا مانیٹرنگ) ایران اور امریکا نے جوہری مذاکرات طے شدہ دن اور وقت کے مطابق ہونے کی تصدیق کردی۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں تصدیق کی کہ امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کل جمعہ کو صبح 10 بجے مسقط میں ہوں گے ۔ ایرانی وزیرخارجہ نے تمام ضروری انتظامات کرنے پر عمان سے اظہار تشکر کیا، یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات ٹوٹنے کے قریب ہیں۔ ایران نے واضح کیا کہ بات چیت جاری رہنے کی منصوبہ بندی ہے اور تمام فریقین پرامید ہیں کہ مسائل حل ہوں گے ،ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے ، جبکہ امریکی نمائندگی اسٹیو وٹکوف کریں گے ۔ایران کا کہنا تھا مذاکرات صرف جوہری پروگرام اور ملک پر عائد پابندیوں کے خاتمے تک محدود رہیں گے ۔ دوسری جانب دو سینئر امریکی عہدیداروں نے بھی میڈیا سے گفتگو میں مذاکرات عمان میں ہونے کی تصدیق کردی،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے بات کرنے کیلئے تیار ہے ، بامعنی مذاکرات کیلئے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات ضرور ہوگی۔
روبیو نے بتایا کہ اگر ایران ملاقات چاہے تو امریکا تیار ہے ، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو مسئلہ نہیں۔ایک عرب سفارتکار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات عمان میں متوقع ہیں تاہم بات چیت کے دائرہ کار پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔ سفارتکار نے بتایا کہ ایرانی حکام نے عمان میں ملاقات کی درخواست کی تھی جسے امریکا نے مقام کے طور پر منظور کر لیا ہے ۔ تاہم مذاکرات کے نکات اور حدود پر مشاورت جاری ہے ۔ سفارتکار کے مطابق صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور حتمی تفصیلات ابھی طے نہیں ہوئیں۔ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کی تصاویر بغیر کسی تبصرے کے شائع کی ہیں، تصاویر میں ابوظہبی اور بحرین کے اڈے دکھائے گئے ہیں، جن پر امریکی اور اتحادی فوجیں تعینات ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے مشیر ریئر ایڈمرل علی شمخانی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا معاملہ مکمل طور پر خارج از امکان ہے ،اس اقدام کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔
عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں علی شمخانی فوجی وردی میں ملبوس تھے ، انہوں نے کہا ایران اس وقت جنگ کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے ، تاہم اس تیاری کا مطلب تصادم کی خواہش نہیں بلکہ دشمنوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں اور دباؤ کا جواب ہے ۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکیہ ، قطر اور عمان کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔ عباس عراقچی نے تناؤ کو کم کرنے اور خطے میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے میں مدد کے لیے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی میڈیا نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔اس سے قبل امریکا، ایران جوہری مذاکرات جمعہ کو ہی ترکیہ میں شیڈول تھے جس کے بعد ایران کی جانب سے مذاکرات استنبول سے عمان منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ایران نے مذاکرات کا مقام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات میں علاقائی شراکت داروں کو شامل نہ کرنے اور بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رکھنے کا بھی مطالبہ کیا تھا تاہم ان مطالبات کو تسلیم یا رد کیے جانے سے متعلق کوئی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
قبل ازیں امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ کل جمعہ کو ہونے والے مذاکرات کے مقام اور طریقہ کار میں تبدیلی سے متعلق ایران کے مطالبات قبول نہیں کرے گا۔ ویب سائٹ کے مطابق اس تعطل کے باعث سفارتی راستہ بند ہو سکتا ہے ،ٹرمپ فوجی کارروائی کا فیصلہ کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان طے پایا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جمعہ کو ترکیہ کے شہر استنبول میں مذاکرات ہوں گے جن میں مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک مبصرین کے طور پر شریک ہوں گے ۔ تاہم ایران نے مطالبہ کیا تھا کہ مذاکرات کا مقام عمان منتقل کیا جائے اور انہیں صرف ایران اور امریکا تک محدود رکھا جائے ساتھ ہی بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رہے اور میزائل پروگرام جیسے دیگر امور زیرِ بحث نہ آئیں۔امریکی حکام نے مقام کی تبدیلی کی درخواست پر غور کیا لیکن اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔