لاہور : بسنت شروع، سلامتی کی دعائیں، خلاف ورزی پر سزائیں : سیفٹی راڈ نہ لگا تو موٹر سائیکل بند : مریم نواز

لاہور : بسنت شروع، سلامتی کی دعائیں، خلاف ورزی پر سزائیں : سیفٹی راڈ نہ لگا تو موٹر سائیکل بند : مریم نواز

جھنڈوں، پتنگوں ،ڈور ،سجاوٹی سامان سے جشن کا سماں ، کیو آر کوڈ کے بغیر بلیک میں فروخت، خلاف ورزی پر سینکڑوں گرفتار،دوسرے شہروں سے بھی پتنگ باز پہنچ گئے لبرٹی، موچی گیٹ کا دورہ، لاہور میں خوشیاں لوٹ آئیں :وزیراعلیٰ ،کشمیریوں کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے :پیغام،وزیراعظم سے آلو کی ایکسپورٹ کیلئے اجازت طلب

لاہور ،راولپنڈی (دنیا نیوز ،کرائم رپورٹر ،کورٹ رپورٹر،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک )لاہور میں 25 سال بعد آج 6فروری سے بسنت کا میلہ سج دھج کے ساتھ شروع ہوگیا، 7اور 8فروری تک جاری رہنے والے رنگوں اور خوشیوں بھرے تہوار کے شروع ہوتے ہی پتنگیں اور گڈے اڑانے والوں کا چھتوں پر ‘‘بو کاٹا ’’کا شور، شہریوں کا جوش و خروش دیدنی ، تہوار خوشگوار اور محفوظ ماحول میں منائے جانے کیلئے سلامتی کی دعائیں کی جا رہی ہیں۔دوسری طرف لاہور سمیت پنجاب بھر میں انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 153 ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی میں کٹی پتنگ کی دھاتی ڈور پھرنے سے 2 بھائیوں کے زخمی ہو نے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر سے رپورٹ طلب کر لی ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں بسنت کا تین روزہ تہواررات 12 بجتے ہی باقاعدہ شروع ہوگیا اورآسمان پر ستاروں کی جگہ پتنگیں سج گئیں،چھتوں پر منچلوں اور پتنگ بازوں کی بہار ،عوام کا جوش و خروش دیدنی ہے ، بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ اور آتش بازی بھی کی گئی، لاہوربسنت کے رنگوں میں رنگ گیا ، خوشی، رنگوں اور جشن کا سماں قائم ہو چکا، رنگ برنگے جھنڈوں، پتنگوں، گڈوں ،ڈوروں اور سجاوٹی سامان نے چھتوں کو خوشیوں کا مرکز بنا دیا، بسنت کے میزبانوں کی طرف سے رشتہ داروں اور دوست احباب کی خاطر تواضع کیلئے لذیذ پکوانوں کی تیاریاں بھی عروج پر ہیں ۔

علاوہ ازیں دوسرے شہروں سے بھی پتنگ بازی کے شوقین بسنت منانے لاہور پہنچ گئے ہیں ، تین روزہ بسنت پر تقریباً 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے داخلے کا امکان ہے ،جس کے پیش نظر پٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں،10 ہزار پولیس اہلکار،25 سو ٹریفک وارڈنز تعینات ہوں گے ۔چیف ٹریفک آفیسرلاہور نے پورے پاکستان کو بسنت منانے کی دعوت دیتے ہوئے ٹریفک انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے ،اطہر وحید کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری جبکہ ریڈ زون کی چھتوں پر کیمرے نصب کرکے آپریشنل کئے جائیں گے ۔ ایس پی آپریشنز سیف سٹی محمد شفیق کا کہنا ہے کہ شہری قانون کی پاسداری یقینی بنائیں تو بسنت فیسٹیول مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔ادھر ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 نافذ ہے ،بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کیلئے بعض پابندیاں عائد کی گئی ہیں ،پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات ، کسی شخصیت کی تصویر ،کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر پر پابندی عائد ہے ،مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد ہے ۔لاہور میں بسنت کے دوران بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی گڈا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہے ۔

ترجمان محکمہ داخلہ نے کہا کہ حکومت پنجاب نے محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی ہے ،قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ علاوہ ازیں بسنت کے موقع پر بغیر کیو آر کوڈ کے پتنگیں، ڈور کے پنے اور غیر قانونی چرخیاں لاہور پہنچ گئیں جس نے انتظامی اور مانیٹرنگ نظام پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ۔ذرائع کے مطابق کیو آر کوڈ کے بغیر پتنگیں اور ڈور بلیک میں فروخت ہو رہی ہیں اس حوالے سے دنیا نیوز اہم ویڈیوز سامنے لے آیا۔بغیر کیو آر کوڈ والی پتنگیں اڑیں تو مانیٹرنگ کیسے ہوگی؟ ، رات کے وقت اڑنے والی پتنگوں کی نگرانی کا کوئی مو ثر نظام موجود نہیں۔کیمیکل اور مانجھا لگی ڈوروں کی بروقت نشاندہی کیسے ممکن ہوگی؟۔دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب نے پتنگ بازی کے سامان کی قیمتوں میں اضافے کا سخت نوٹس لے لیا ہے ۔

اس حوالے سے وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کی زیر صدارت محکمہ داخلہ میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت نے پتنگ بازی کے سامان کی قلت دور کرنے کیلئے قصور، شیخوپورہ، فیصل آباد اور ملتان میں سامان تیار کرنے کی اجازت دی ، چاروں اضلاع میں تیارسامان ایک ہی دن لاہور پہنچایا جائے گا، جس سے قیمتوں میں واضح کمی آئے گی۔علاوہ ازیں بسنت پر فری ٹرانسپورٹ چلانے کے حکومتی پلان کے تحت ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی 199 بسیں مختلف روٹس پر تعینات ہوں گی، پورا شہر بسنت کے موقع پر خصوصی ٹرانسپورٹ سے کور ہوگا، شہریوں کو آسان اور سستی سفری سہولت فراہم کرنے کا پلان کیا گیا ہے ۔دوسری طرف پنجاب حکومت کے بسنت کی 6اور 7فروری کو پنجاب بھر میں چھٹی کے اعلان کے بعد لاہور ہائیکورٹ انتظامیہ نے چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کو عدالتیں دو روز بند رکھنے کی تجویز دی ، تاہم چیف جسٹس نے تجویز مسترد کرتے ہوئے عدالتیں کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا، ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتیں کھلی رہیں گی ۔

دریں اثنا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے پورے پنجاب میں بسنت نہ منانے سے متعلق کیس میں سپیشل سیکرٹری ٹو وزیراعلی ٰپنجاب کو 11 فروری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم جاری کر رکھا ہے ۔درخواست گزار اشبا کامران کے مطابق پنجاب حکومت نے بسنت تہوار منانے کیلئے باقاعدہ قانون بنایا لیکن قانون کا اطلاق صرف لاہور تک محدود کر دیا گیا ، دیگر شہروں کو نظر انداز کرنا آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے ، عدالت بسنت تہوار پورے پنجاب میں منانے کا حکم دے ۔دریں اثنا پنجاب پولیس نے انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزیوں پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں 141 مقدمات درج کرکے 153 ملزموں کو گرفتار،غیر منظور شدہ 22 ہزار 753 پتنگیں اور 570 ڈور کی چرخیاں برآمد کر لیں۔

لاہور میں ملوث 81 ملزم گرفتار کئے گئے جبکہ 2807 پتنگیں اور 202 ڈور کی چرخیاں برآمد ہوئیں۔ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ رواں سال اب تک ملوث 4171 ملزم گرفتار کئے جا چکے ہیں ۔ ترجمان کے مطابق بسنت کی اجازت صرف سخت حکومتی شرائط اور قوانین کے تحت مخصوص دنوں میں دی گئی ہے ۔ ادھر راولپنڈی کے علاقے گلستان کالونی میں گزشتہ روز ماموں کے ہمراہ موٹرسائیکل پر جانیوالے دو کمسن بھائی 5 سالہ دانیال اور ایک سالہ ابوبکر کے گردن پر ڈور پھر نے سے زخمی ہونے پر نامعلوم پتنگ باز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر راولپنڈی سے رپورٹ طلب کرلی ۔جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ممنوعہ ڈور کے استعمال سے خوشی کے تہوار کو خونیں نہ بنایا جائے ۔ 

لاہور (دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بسنت کے جائزہ کیلئے اچانک لبرٹی چوک اور موچی گیٹ پہنچ گئیں ،اس موقع پر شہری سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بسنت پر موٹرسائیکل چلانے پر پابندی نہیں، لیکن اگر سیفٹی راڈ نہ لگایا تو موٹرسائیکل بند ہوجائے گی،حفاظتی اقدامات عوام کی حفاظت کیلئے ہیں۔قبل ازیں وزیراعلیٰ کو دیکھ کر بڑی تعداد میں شہری جمع ہوگئے ،وزیراعلیٰ نے شہریوں سے بات چیت اوربچوں سے اظہار شفقت کیا ، ایک نوجوان گود میں شیر خوار بچے کو اٹھا کر پاس پہنچ گیا، مریم نواز نے ننھے بچے سے مصافحہ اور پیار کرتے ہوئے کہاکہ آپ تو فوجی بھائی بنے ہوئے ہیں ،ایک شہری نے وزیراعلیٰ سے خواہش کااظہار کیا کہ آپ کراچی آجائیں ۔ مریم نوازشریف نے سیفٹی راڈ کے بغیر موٹرسائیکل سوار کو راڈ لگوانے کی ہدایت کر دی اورگفتگو میں مزید کہا کہ آپ کسی بھی کیمپ جا کر مفت سیفٹی راڈ لگوا سکتے ہیں،سیفٹی راڈ آپ کی اپنی سلامتی کیلئے ہے ، مجھے آپ کی پروا ہے ۔

لبرٹی کے بعد موچی گیٹ پہنچنے پر ایک شہری کے سوال پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہاکہ لاہوریے خوشیاں منا رہے ہیں،میں ان کو دیکھ کر خوش ہو رہی ہوں ،بہت دیر بعدبسنت سے لاہور میں خوشیاں لوٹ کرواپس آئی ہیں ۔ دریں اثنائگزشتہ سال کے مقابلے آلو کی پیداوار میں 25 فیصد کا بڑا اضافہ ہواہے ، 12 ملین میٹرک ٹن کی تاریخی پیداوارسے پنجاب میں آلو کی پیداوار کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب میں آلو کی ریکارڈپیداوار حاصل کرکے تاریخی سنگِ میل عبور کرلیا ۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے آلو کی ریکارڈ پیداوارکو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے وزیراعظم پاکستان سے ایکسپورٹ کی اجازت طلب کرلی ،پاکستان میں موجود قازقستان کے اعلی ٰسطح کے وفد اور پنجاب حکومت کے مابین آلو کی برآمد کیلئے آج اہم پیش رفت متوقع ہے۔

مریم نواز نے کہاکہ آلو کی برآمدات کیلئے نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جارہی ہے ،قازقستان پہلا قدم ہے ، جلد مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کریں گے ، پنجاب میں آلو کی ریکارڈ پیداوار کو کوڑیوں کے بھاؤ نہیں بکنے دیا جائے گا،اپنے کسان کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑوں گی،کسانوں کو بہتر معاوضہ دلانے کیلئے پنجاب حکومت وفاق کے ساتھ مل کر نئی برآمدی منڈیوں کے حصول کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے ۔ علاوہ ازیں وزیرِاعلیٰ پنجاب نے یومِ یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہر پاکستانی کے دل میں کشمیر کی محبت لہو بن کر دوڑتی ہے ، بھارتی بربریت نے جنت نظیر وادی کو جیل بنا دیا۔

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف اپنا قانونی کردار ادا کریں ،مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل تک خطے میں پائیدار امن خواب ہی رہے گا،پاکستان کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، انشاء اللہ کشمیری عوام آزادی کا سورج جلد دیکھیں گے ۔مزید برآں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز گزشتہ روز کیپٹن محمد علی قریشی شہید کے گھر گئیں اورشہید کے اہل خانہ سے ملاقات اور اظہارِ تعزیت کیا،کیپٹن محمد علی قریشی 22 اگست 2024 کو کولپور بلوچستان میں فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے تھے ۔ مریم نواز نے شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے کہاکہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاک فوج کی کاوشیں قابلِ تعریف ہیں ۔اس موقع پر سینئرمنسٹر مریم اورنگزیب، وزیر اطلاعات عظمی ٰبخاری ، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں