پاکستان کو نوجوانوں کیلئے ہر سال 25 سے 30 لاکھ ملازمتوں کی ضرورت : صدر عالمی بینک
آئندہ دس برسوں میں نوجوان آبادی کو معاشی فائدے میں بدلنے کیلئے کم از کم 3 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی ملک میں 90 فیصد روزگار نجی شعبہ پیدا کرتا ، زراعت کاشعبہ 2050 تک درکار ملازمتوں کا ایک تہائی فراہم کر سکتا اسلام آباد دباؤ کا شکار، نوجوانوں کیلئے درست پالیسیوں اور روزگار کے مواقع کی فراہمی معیشت کیلئے مثبت ثابت ہو سکتی کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت پاکستان کیلئے سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جائیگی:اجے بنگا
کراچی (رائٹرز)عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا ہے کہ پاکستان کو آئندہ دس برسوں میں نوجوان آبادی کو معاشی فائدے میں بدلنے کیلئے کم از کم 3 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی ،صورت دیگر ملک کو عدم استحکام اور بیرونِ ملک ہجرت کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔رائٹرز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں اجے بنگا کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت نوجوانوں کی بڑی آبادی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے ، جو درست پالیسیوں اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کی صورت میں معیشت کیلئے مثبت ثابت ہو سکتی ہے ،اہم اجے بنگا کے مطابق اسلام آباد کو اب بھی پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے شدید دباؤ کا سامنا ہے اور ان اہداف کے حصول میں ناکامی سماجی و معاشی چیلنجز کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نوجوان آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث ہر سال 25 سے 30 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی، جو آئندہ دس برسوں میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ سے 3 کروڑ ملازمتوں کے برابر بنتی ہیں۔عالمی بینک کے ساتھ طے پانے والے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF)کے تحت پاکستان کیلئے سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی سرکاری و نجی مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جس میں سے تقریباً نصف رقم نجی شعبے کے منصوبوں کے ذریعے آئے گی، جن کی قیادت عالمی بینک کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کرے گی۔ نجی سرمایہ کاری پر انحصار اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے پاس اخراجات کی گنجائش محدود ہے جبکہ ملک میں 90 فیصد روزگار نجی شعبہ پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اکیلا شعبہ ہے جو 2050 تک پاکستان کو درکار مجموعی ملازمتوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ فراہم کر سکتا ہے ،ہنرمند افراد کی بیرونِ ملک منتقلی کی صورت میں یہ دباؤ واضح طور پر نظر آ رہا ہے ۔ گیلپ پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جو بیورو آف امیگریشن کے ڈیٹا پر مبنی ہیں، 2025 کے دوران تقریباً 4 ہزار ڈاکٹر پاکستان سے بیرون ملک گئے ، جو کسی ایک سال میں سب سے زیادہ تعداد ہے ۔