پاکستان اور اردن کا باہمی تعاون کو 16 ترجیحی شعبوں تک بڑھانے پر اتفاق
تجارت ،مالیات ،صنعت،صحت ،بحری امور شامل، ترجیحی تجارتی معاہدے کے حصول پر مشاور ت شرو ع کی جائے گی اسلام آباد میں مشترکہ وزارتی کمیشن کا 10واں اجلاس ختم ،باہمی تعاون کو وسعت دینے کے لئے پروٹوکول پر دستخط
اسلام آباد (وقائع نگار)پاکستان اور اردن نے ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے ) کے حصول پر مشاورت شروع کرنے اور باہمی تعاون کو 16 ترجیحی شعبوں تک وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے ۔ ان شعبوں میں تجارت، مالیات، صنعت، ماحولیاتی تبدیلی، بحری امور، صحت، ٹیکنالوجی اور تعلیم شامل ہیں۔ اس مقصد کیلئے دونوں ممالک کے درمیان ایک پروٹوکول پر دستخط کیے گئے جس کا ہدف تاریخی، سیاسی اور سفارتی تعلقات کو ٹھوس معاشی اور ادارہ جاتی نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ اتفاقِ رائے مشترکہ وزارتی کمیشن کے 10 ویں اجلاس میں ہوا جو 4 تا 5 فروری اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور اردن کے وزیرِ صنعت، تجارت و رسد یارب القضاۃ نے کی۔ پروٹوکول پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیرِ تجارت نے کہا جے ایم سی دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر نتیجہ خیز تعاون کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ترجیحی تجارتی معاہدے پر مشاورتی عمل کی قیادت تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کرے گا۔ پاکستان-اردن بزنس کونسل فعال بنانے اور کاروبار سے کاروبار روابط کے فروغ پر بھی کام کیا جائے گا۔ اجلاس میں بینکاری و مالیات کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے ، بشمول مرکزی بینکوں کے مابین اشتراک، صنعت، زراعت، حلال معیارات، تعلیم، مہارتوں کی ترقی، صحت، ماحولیاتی تبدیلی، توانائی، کان کنی، بحری امور، میڈیا، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں ادارہ جاتی روابط اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے ذریعے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔