چلڈرن ہسپتال کے نئے آئی سی یو کا افتتاح،شعبہ صحت میں شفافیت ضروری:مریم نواز

چلڈرن  ہسپتال  کے  نئے  آئی  سی  یو  کا  افتتاح،شعبہ  صحت  میں  شفافیت  ضروری:مریم  نواز

زیر علاج بچوں سے ملاقات ، ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت 10 ہزار سرجریز مکمل ہونے پر تقریب میں شرکت مریض بچوں کے درمیان بیٹھ کر اظہار شفقت ، غریب کا پیسہ کرپشن کی نذر نہیں ہونے دونگی :کانفرنس سے خطاب

لاہور(نیوزایجنسیاں)وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے چلڈرن ہسپتال کے نئے آئی سی یو کا افتتاح کر تے ہوئے آئی سی یو کا دورہ کیا اورزیر علاج بچوں کی تیمارداری اوراظہار شفقت کیا، وزیراعلیٰ نے چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت 10 ہزار سرجریز مکمل ہونے پر خصوصی تقریب میں شرکت کی، مریض بچوں اور ان کے درمیان بیٹھ گئیں اور ہارٹ سرجری کے مریض بچوں سے اظہار شفقت کیااورپاکستان بھر سے آنیوالے دس ہزار سے زائد بچوں کی مفت سرجریزپر اظہار تشکرکیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری کے تحت سب سے زیادہ خیبر پختونخوا کے 425 بچوں کی مفت ہارٹ سرجری کی گئی۔آزاد جموں و کشمیر کے 250،فیڈرل کے 107،گلگت بلتستان کے 34،بلوچستان کے 28 اور سندھ کے 27 بچوں کی بھی فری ہارٹ سرجری کی گئی۔ صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت اب تک 10331 بچوں کی سرجری ہوچکی ہے ۔ وائس چانسلر مسعود صادق نے بھی بریفنگ دی۔

وزیراعلیٰ نے چلڈرن ہسپتال لاہور میں کارڈیک سرجن کی تعداد 12،کارڈیک فزیشن 34 تک بڑھا دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام پر خصوصی معلوماتی فلم بھی دکھائی گئی۔دریں اثنا مریم نواز نے لاہورمیں ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کو سیف سٹی کے ساتھ لنک کر دیا۔ صحت کے شعبے میں شفافیت بہت ضروری ہے ، دس ہزار 300 بچوں کے دل کا آپریشن کرنے سے انہیں نئی زندگی ملی ،ماضی میں ادویات موجود ہونے کے باوجود مریضوں کو نہیں دی جاتی تھیں۔ ہسپتالوں میں ہر طرح کی ادویات موجود ہیں، غریب کا پیسہ کرپشن کی مد میں کسی کو نہیں کھانے دوں گی، کوشش ہو گی کہ علاج کے لیے کسی کو بھی دوسرے شہر نہ جانا پڑے ، شکایات آتی ہیں سی ٹی سکین، ایم آر آئی کی مشین خراب ہے ، اگر کوئی چیز خراب ہے تو اِسے ٹھیک کرایا جائے تاکہ مریضوں کو دربدر نہ بھٹکنا پڑے ، ڈیوٹی اوقات میں اگر ڈاکٹر موبائل استعمال نہیں کرینگے تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی، سرکاری ہسپتالوں کے خود دورے کر رہی ہوں۔ مریضوں کے بیڈ کے ساتھ پڑے ڈسٹ بن کوصاف رکھیں، ہسپتالوں کے واش روم کو صاف رکھا جائے ، تمام ایم ایس ہسپتالوں میں فائرسیفٹی سسٹم کو بھی یقینی بنائیں۔ ایک بیڈ پر 2، دو یا 3 ، تین کے بجائے ایک مریض ہونا چاہیے ، ڈاکٹرز،انسانی زندگیاں بچانے کو اپنا مشن بنائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں