بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج پرامن سیاسی انقلاب کی ضمانت

بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج پرامن سیاسی انقلاب کی ضمانت

جماعت اسلامی نے انتخابی نتائج خوشدلی سے تسلیم کر کے سیاسی پختگی کا ثبوت دیا

(تجزیہ:سلمان غنی)

بنگلہ دیش کے انتخابات میں جیت تو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا مقدر بنی اور جماعت اسلامی ان انتخابات میں رنر اپ رہی لیکن مذکورہ انتخابات کی اچھی اور غیر معمولی بات یہ رہی کہ جماعت اسلامی نے سیاسی پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے انتخابی نتائج کو خوشدلی سے تسلیم کرلیا اور مخالفت برائے مخالفت کی بجائے ایک بامقصد اپوزیشن کا عزم ظاہر کیا ہے ۔جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے انتخابی نتائج آنے کے بعد 

 مثبت سیاست کا عزم ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہمارا طرز عمل بنگلہ دیش کی سیاست میں مثبت اور اہم کردار کا حامل ہوگا۔غیر جانبدار مبصرین بھی جہاں بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج پر اپنے تبصروں میں انتخابات کی شفافیت کا ذکر کرتے نظر آ رہے ہیں وہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ انتخابی عمل بنگلہ دیش اور اس کی سیاست میں استحکام لائے گا اور اس کے اثرات ملکی معیشت پر مثبت نظر آئیں گے جبکہ ان انتخابی نتائج کو پرامن سیاسی انقلاب کی ضمانت قرار دیا جارہا ہے ۔

خیال رہے 17 کروڑ پر مشتمل مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجد کے دور میں انڈیا کا سب سے بڑا شراکت دار رہا ہے ، لیکن 2024 میں طلبا تنظیم کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے نتیجہ میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور اس کے بعد سے توازن بھارت کے مقابلہ میں پاکستان کی طرف تبدیل ہوتا نظر آیا ۔ان انتخابی نتائج کے بعد بھی امکانات یہی ہیں کہ بنگلہ دیش کی حکومت اور اپوزیشن کی علاقائی محاذ پر ترجیح پاکستان ہی ہوگی اور محمد یونس کی عبوری حکومت کی طرح نئی حکومت بھی چین کی سٹرٹیجک سوچ کی طرف جھکاؤ رکھے گی، اگرچہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بی این پی کے سربراہ طارق رحمن کو جیت پر مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی پیدا شدہ صورتحال میں نئی حکومت بھارت کے سفارتی تعلقات تو رکھے گی لیکن اس سے خیر کی امید نہیں، اس لئے کہ عوامی لیگ کی لیڈر سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو بھارت نے اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے اور مستقبل میں بھارت ایک مرتبہ پھر ان کو اور ان کی لیڈر شپ کو یہاں مسلط کرنے کے لئے کوشش کر سکتا ہے ۔

جہاں تک انتخابی نتائج کا تعلق ہے تو بی این پی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو چکی ہے ، ان انتخابات کو عوامی جوش و خروش اور ملک کے سیاسی مستقبل کے لئے اہم قرار دیا جا رہا ہے اور ایک مستحکم بنگلہ دیش کو جنوبی ایشیا میں سیاسی بے یقینی کم کرنے کے حوالہ سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے اور امکان بھی یہی ہے کہ بی این پی کی نئی حکومت علاقائی محاذ پر کسی سے الجھنے کی بجائے اپنے بنیادی ایجنڈا پر کاربند رہتے ہوئے بنگلہ دیش کے معاشی حالات اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دے گی ، اس ضمن میں امیر جماعت اسلامی کا دباؤ ہوگا کیونکہ جماعت اسلامی کو پہلی مرتبہ بنگلہ دیش میں اپنی پارلیمانی حیثیت اور اہمیت ملی ہے کہ وہ اپنی اس طاقت کو مثبت انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے حکومت پر دباؤ رکھے گی اور ایک موثر اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی مقبولیت بڑھانے پر توجہ دے گی ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں