یتیم بچوں کوقانونی شناخت کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا:سندھ ہائیکورٹ

یتیم بچوں کوقانونی شناخت کے حق سے  محروم نہیں رکھا جا سکتا:سندھ ہائیکورٹ

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے لاوارث اور یتیم بچوں کی رجسٹریشن اور قانونی شناخت کے مسائل سے متعلق لیگل ایڈ سوسائٹی کی درخواست پر نادرا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے۔

کہ وہ رجسٹرڈ یتیم خانوں میں مقیم نامعلوم ولدیت کے بچوں کو والدین کی تفصیلات پر اصرار کیے بغیر قانونی شناختی دستاویزات جاری کرنے کے لیے یکساں اور مؤثر طریقہ کار وضع کریں۔ جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی پر مشتمل دو رکنی آئینی بینچ نے فیصلے میں قرار دیا کہ قانونی شناخت کا حق آئین کے تحت زندگی اور وقار کے بنیادی حق سے جڑا ہوا ہے اور کسی بھی انتظامی یا طریقہ کار کی رکاوٹ کے باعث یتیم اور لاوارث بچوں کو اس حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار بیرسٹر سیف اکبر نے مؤقف اختیار کیا کہ سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ صوبے کے ہر بچے کی فلاح کا ذمہ دار ہے مگر یتیموں کے لیے کوئی جامع اور مؤثر پالیسی موجود نہیں،ولدیت میں ریاست کا نام درج ہونا چاہیے ۔ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیے کہ تمام شہریوں کی عزت کا تحفظ کیا جانا چاہیے ، ایسا نہ ہو کہ شناختی کارڈ جہاں دکھایا جائے وہاں بے عزتی ہو،عدالت نے سوشل ویلفیئر حکام سے استفسار کیا کہ یتیموں کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ ۔عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ قرآن میں یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں