بزدار ،پرویز الٰہی ادوار :پنجاب کے قرضوں میں 605ارب کا اضافہ

 بزدار ،پرویز الٰہی ادوار :پنجاب کے قرضوں میں 605ارب کا اضافہ

پہلے وزیراعلیٰ کے د ور میں 485،دوسرے کے دور میں 120ارب روپے قرضہ بڑھا حمزہ کے 86دنوں میں قر ضے 113ارب،مریم کے دوسرے سال 50ارب بڑھے

لاہور(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے وزرائے اعلیٰ عثمان بزدار اورپرویز الٰہی کے ادوور میں صوبے کے قرضوں میں 605ارب روپے کا اضافہ ہو ا۔ وزارت خزانہ سے حاصل معلومات کے مطابق شہباز شریف دور حکومت کے خاتمے پر پنجاب کے ذمے قرضوں کا مجموعی حجم 609 ارب روپے تھا جبکہ عثمان بزدار حکومت کے پہلے سال 2018ئمیں یہ حجم بڑھ کر813 ارب ،دوسرے سال 2019ئمیں مزید اضافے سے 905ارب روپے ،2020ئمیں 951ارب اور 2021میں یہ حجم 1079ارب روپے تک پہنچ گیا ، بزدار دور کے خاتمے تک پنجاب کے ذمے قرضوں کا مجموعی حجم 1094 ارب تک پہنچ گیاتھا۔

صوبے میں حکومتی تبدیلی کے بعد حمزہ شہباز کے دور حکومت میں 30اپریل2022ئسے 25جولائی2022ئتک صرف 2 ماہ اور 25 دنوں(86دن)کے د وران قرضوں میں 113ارب روپے کا اضافہ ہوا اور قرضوں کا مجموعی حجم 1207ارب تک پہنچ گیا ۔عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تو 26جولائی2022ئسے 22جنوری2023ئتک(5 ماہ اور 27 دن کے دوران)قرضے 120ارب کے اضافے سے 1327ارب تک جا پہنچے ۔ محسن نقوی کے نگران دور حکومت 22جنوری2023ئسے 25فروری2024ئتک قرضوں کا حجم1704ارب تک پہنچ گیا ۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن)کی حکومت آنے کے بعد قرضوں میں 50 ارب روپے کی کمی دیکھی گئی اورمجموعی قرضے کا حجم 1654 ارب روپے ہو گیا جبکہ 2025 میں ایک بار پھر 50ارب روپے اضافے کے بعد حجم1704 ارب روپے تک پہنچ گیا ۔ ۔اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پنجاب کا ہر شہری تقریباً13ہزار750روپے کا مقروض ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں