ہائیکورٹ سے یونان کشتی حادثہ کے ملزم کی ضمانت مسترد
ملک کا نام خراب کرنیوالے رعایت کے مستحق نہیں:چیف جسٹس کے ریمارکس ایف آئی اے کے دو مقدمات میں پندرہ ماہ سے قید ملزم کو ریلیف نہ مل سکا
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے یونان کشتی حادثہ کے دو مقدمات میں ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دئیے کہ اس حادثے کی وجہ سے پوری دنیا میں ملک کا نام خراب ہوا، ایسے ملزم کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ملزم یاسر وڑائچ کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر پیش ہوئے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم پر کیا الزام ہے ؟ وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ ملزم کے ذریعے ایجنٹس کو پیسے دلوائے گئے ۔عدالت نے پوچھا کہ کتنی رقم دی گئی اور کس مقصد کے لیے دی گئی؟ وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار کے بچوں کو اٹلی بھجوانے کی غرض سے 25 لاکھ روپے فی کس ادا کیے گئے ۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا ملزم براہِ راست ایجنٹ تھا؟ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے ایجنٹس کا نمائندہ بن کر لوگوں سے رقوم وصول کیں۔دورانِ سماعت ملزم کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملزم خود بیرونِ ملک گیا ہی نہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ چلے جاتے تو شاید آپ کو احساس ہوتا کہ ڈوبنا کیا ہوتا ہے ۔ملزم کے وکیل نے استدعا کی کہ ملزم پندرہ ماہ سے جیل میں ہے اور ابھی تک فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے دو مقدمات کا چالان جمع نہیں کرایا جبکہ ملزم کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ بھی نہیں، لہٰذا ضمانت منظور کی جائے ۔ ایف آئی اے نے یونان کشتی حادثہ کے سلسلے میں ملزم کے خلاف مقدمات درج کر رکھے ہیں۔