پختونخو امیں دہشتگردی کی لہر، سکیورٹی ادارے ٹارگٹ کیوں ؟
سرحد پار دہشت گردی نیٹ ورک کے مکمل خاتمہ تک حملے ہوتے رہیں گے
(تجزیہ:سلمان غنی)
پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر جاری ہے ،دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ٹارگٹ کرتے نظر آ رہے ہیں، سکیورٹی ماہرین کے مطابق جب تک سرحد پار دہشت گردی نیٹ ورک مکمل طو رپر ختم نہیں کیا جاتا اس نوعیت کے حملے وقفے وقفے سے ہوتے رہیں گے ،دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس لئے نشانہ بناتے ہیں کہ ریاست کی طاقت اور رٹ کو چیلنج کیا جا سکے ، گزشتہ روز بھی کوہاٹ کے نواحی علاقہ میں پولیس موبائل پر فائرنگ کے نتیجہ میں ایک ڈی ایس پی سمیت چھ اہلکاروں اور ایک شہری کی شہادت کے عمل کو ریاست کی جانب سے دہشت گردوں کے مراکز پر کئے جانے والے حالیہ حملوں کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت وہ اپنے جوابی حملوں کے ذریعے اپنے وجود کا احساس دلانا چاہتے ہیں لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ دہشت گرد اپنے مذموم ایجنڈا پر پسپائی اختیار کیونکر نہیں کر رہے ، فورسز اور خصوصاً قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا ٹارگٹ کیوں ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کب تک اپنے منطقی انجام پر پہنچ پائے گی، دہشت گردی کا یہ سلسلہ سرحد پار طالبان انتظامیہ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے شروع ہوا اور طالبان نے اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے سدباب کی عالمی یقین دہانی کے باوجود اس کے تدارک اور سدباب کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جس سے یہ سلسلہ پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً پختونخوا اور بلوچستان تک پھیلا اور پختونخوا ان کا ٹارگٹ اس لئے بنا کہ یہ ان کے قریب تر ہے اور ویسے بھی کالعدم ٹی ٹی پی کی جڑیں زیادہ تر اس صوبہ اور قبائلی علاقوں میں پائی جاتی ہیں اس ضمن میں پختونخوا کی صوبائی حکومت نے بھی دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے خاتمہ کے لئے جو ممکنہ اقدامات ہونے چاہئیں تھے وہ نہیں کئے یہی وجہ ہے کہ پختونخوا دہشتگردوں کا خصوصی ٹارگٹ رہا اور وہ ریاست کی رٹ پر اثر انداز ہونے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے سکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کرتے دکھائی دیئے اور ان کے حملوں کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ وہ سیاسی اور نفسیاتی دباؤ بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کی اچھی تصویر نہ ابھرے اور یہاں معاشی تجارتی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیاں متاثر ہوں،ویسے بھی دہشت گردوں کی سرگرمیاں اس وقت زیادہ ہوتی ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا کردار سفارتی اور بیرونی محاذ پر نمایاں ہوا،
کچھ ماہرین تو دہشت گردی کے اس سلسلہ کو صرف سکیورٹی کا مسئلہ قرار نہیں دیتے بلکہ گورننس بارڈر مینجمنٹ اور علاقائی سیاست سے جڑا قرار دیتے نظر آتے ہیں دہشت گردی کے اس نئے سلسلہ کو علاقائی محاذ پر بھارت سے منسلک سمجھا جاتا ہے پاکستانی افواج کے ہاتھوں بھارت کی بننے والی درگت کے بعد اب بھارتی افواج پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کا تو نہیں سوچ سکتیں لیکن بھارت نے اپنے روایتی ہتھیار دہشت گردی اور تخریب کاری کو بروئے کار لاتے ہوئے افغان سرزمین کے استعمال کا فیصلہ کیا اور افغان انتظامیہ کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کے علاقائی کردار پر اثر انداز ہونے کیلئے پاکستان کے اندرونی محاذ کو غیر مستحکم کیا جائے جس کیلئے افغانستان کا کردار اہم ہوگا ۔ ماضی میں جو کالعدم تنظیمیں کمزور ہو گئی تھیں انہوں نے بھی طالبان حکومت کے قیام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پھر سے فوج کو منظم کیا ویسے تو پختونخوا میں دہشت گردی کے رجحان کی ایک وجہ گورننس ہے جس سے شدت پسندی کو جگہ ملی ،بلا شبہ پاک افغان سرحد بہت طویل ہے اور اس وجہ سے دہشت گردی کی آمدو رفت پر مکمل کنٹرول نہیں ہوسکا ، آج کی بڑی ضرورت سرحدی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور کراسنگ پوائنٹس کو مزید منظم کرنا ہے کیونکہ بارڈر کنٹرول دہشت گردی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔لہٰذا اس حوالہ سے امریکا سمیت دیگر علاقائی قوتوں کو بھارت پر دباؤ بڑھانا ہوگا اور اسے بتانا ہوگا کہ افغان سرزمین پر کھیلا جانے والا کھیل اسے پھر الٹا پڑ سکتا ہے ۔