ایم کیو ایم جو چاہے کرے،اسمبلی میں جو کہا وہ ناقابل قبول :وزیراعلیٰ سندھ
گورنر ہاؤس میں ہونیوالی بات چیت پر تحفظات وزیراعظم تک پہنچادیئے ،عمر کوٹ میں پولیس کا طرز عمل قبول نہیں،مراد شاہ وطن کے دفاع پر سمجھوتا نہیں ہوگا، دشمن کو ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا،سرحدوں کے محافظوں کو خراجِ تحسین پیش
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ جو چاہے کرے لیکن اس اجلاس میں جو کہا گیا وہ ناقابل قبول ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے واضح اور مضبوط موقف اختیار کیا ہے جو صدر اور وزیر اعظم دونوں تک پہنچایا گیا ہے ۔ گورنر ہاؤس میں ہونے والی بات چیت پر اپنے تحفظات وزیر اعظم تک پہنچا دیئے ہیں ، امید ہے گورنر آئین کے مطابق فرائض انجام دیں گے ۔انہوں نے واضح کیا کہ گورنر کی تبدیلی سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے اندھیرے میں حملے کی کوشش کی گئی، جسے موثر انداز میں ناکام بنا دیا گیا۔ پاک، افغان سرحد پر کیے جانے والے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے قوم کو پیغام دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کا دفاعی حق ہے اور وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کو ناکام بنایا جائے گا اور پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت قومی سلامتی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور افواجِ پاکستان کے ساتھ ہے ۔
مراد علی شاہ نے سرحدوں کے محافظوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم یکجہتی کی تصویر بنی ہوئی ہے اور دشمن کو ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔مراد علی شاہ نے صدر آصف زرداری کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جھوٹے بیانیے دانستہ طور پر پھیلائے جا رہے ہیں۔انہوں نے بعض صحافیوں اور ٹی وی چینلز پر غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا۔ عمرکوٹ میں حالیہ پولیس کارروائی پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپریشن عدالتی احکامات کے تحت کیا گیا تاہم پولیس کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں پولیس نے کارروائی کی وہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے صوبائی وزرائے داخلہ اور تعلیم سے ذاتی طور پر تفصیلات طلب کی ہیں۔وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ کراچی میں متعدد بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ انہوں نے کراچی پریس کلب کے باہر تنخواہوں کے مطالبے کے لیے احتجاج کرنے والوں کے مسئلے کے حل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ متعلقہ حکام کو ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے بھیجا جائے گا۔