سی سی ڈی انسانی زند گیوں سے کھیل رہے ہیں:لاہور ہائیکورٹ

سی  سی  ڈی    انسانی  زند گیوں  سے  کھیل  رہے  ہیں:لاہور  ہائیکورٹ

نعمان قیصر کا نام غلطی سے پولیس مقابلہ میں شامل ہوا:ڈی آئی جی لیگل ،ذمہ دار افسر پیش کریں:جسٹس تنویر شیخ آپ کی غلطیاں نہیں رکیں گی، بہتر ہے آئی جی کو ہی طلب کرلیں:عدالت کااظہار برہمی،درخواست پر فیصلہ محفوظ

لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی کی جانب سے شہری کا نام قتل کے مقدمہ میں ڈالنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا،جسٹس تنویر احمد شیخ نے سی سی ڈی افسر وں پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا آپ کی غلطیاں نہیں رکیں گی، بہتر ہے ہم آئی جی پنجاب کو ہی طلب کرلیں۔ڈی آئی جی لیگل نے اعتراف کرتے ہوئے کہانعمان قیصر کا نام غلطی سے منڈی بہاؤلدین پولیس مقابلہ اور ملزم کے قتل کے مقدمہ میں شامل ہوا، جس پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہابارہ بجے تک غلطی کرنے والے سی سی ڈی افسر پیش کریں یا پھر آئی جی کو عدالت بلا لیں،بارہ بجے تک آئی جی پنجاب عدالت پیش نہیں ہوتے تو میں آئی جی کے اختیارات واپس لے لوں گا۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا سی سی ڈی والے انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، شہری کا کیریئر تباہ کر دیا گیا اور بعد میں اسے غلطی قرار دے دیا۔ڈی آئی جی لیگل نے کہاغلطی کرنے والے افسر وں اور اہلکاروں کے خلاف انکوائری مارک کر دیتے ہیں۔ عدالت نے کہا مجھے انکوائری نہیں وہ افسر چاہئیں جنہوں نے یہ نام قتل کے مقدمہ میں ڈالا،آئی جی پنجاب اگر نعمان قیصر کی فائل دیکھیں تو کانوں کو ہاتھ لگائیں گے ، میں نے وہ شکلیں دیکھنی ہیں جنہوں نے غلطی سے شہری کا نام قتل اور پولیس مقابلہ کیس میں ڈالا۔ وکیل درخواستگزار رمضان ڈھڈی نے کہاہمیں سو فیصد یقین ہو چکا انہوں نے نعمان قیصر کو ماورائے عدالت قتل کر دینا ہے ، نعمان قیصر کا نام ایک اور غلطی کر کے لاہور کے تھانہ کاہنہ میں بھی قتل کے وقوعہ میں شامل کیا ہوا ہے ۔

عدالت نے کہاآپ بے فکر ہو جائیں، آج سی سی ڈی والے اپنی ساری غلطیاں درست کریں گے ، عدالت نے سماعت دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کر دی،دوبارہ سماعت پر ایس ایس پی سی سی ڈی ہیڈ کوارٹر و دیگر افسر عدالت پیش ہوئے ،عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں یہ نام کیسے ڈالا گیا؟ ۔ایس پی لیگل نے کہاہم لیگل برانچ سے ہیں، ہمیں نیچے سے ریکوئسٹ آتی ہے ،سی سی ڈی نے ریکوئسٹ کرنیوالے 2 اہلکار عدالت پیش کر دیئے ۔عدالتی استفسار پر سی سی ڈی اہلکار نے کہامیں سپیشل آپریشن سیل میں بطور اے ایس آئی تھا، 4 دسمبر کو یہ ریکوئسٹ کی ، عدالت نے استفسار کیاان اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی گئی ؟۔سرکاری وکیل نے کہا انہیں شو کاز نوٹس جاری کیا گیا اور ایس ایس پی نے انکوائری مارک کی ہے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ سسٹم میں کسی کا نام ڈالا گیا تو کیا اس پر سائبر کرائم کا ایکٹ نہیں لگے گا؟۔ایس ایس پی ہیڈ کواٹر سی سی ڈی نے کہاسر یہ غلطی ہوئی ہے ۔ عدالت نے کہا کیا یہ غلطی ہے یا بلنڈر ؟ کیا اس غلطی پر فوجداری جرم بھی بنتا ہے ؟ ۔سرکاری وکیل نے کہا سر اس پر محکمانہ انکوائری ہوتی ہے ۔

عدالت نے کہااگر کسی بندے کا نام غلطی سے کسی ایسی لسٹ میں آ جائے تو اسے ساری زندگی بھگتنا پڑتا ہے ۔ وکیل درخواست گزار نے کہاسر ہم ایک غلطی تو مان لیتے ہیں لیکن انہوں نے ایک اور قتل کے مقدمہ میں بھی اس شخص کو ڈالا ہے ، کیا انہوں نے ساری غلطیاں ایک ہی شخص کے خلاف کرنی ہیں ، جس مقدمہ میں نام ڈالا گیا اس وقوعہ کے وقت ملزم سپین میں تھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس مقدمہ میں نام کس نے ڈالا ؟وکیل درخواستگزار نے کہایہ ڈی آئی جی لیگل کی طرف سے درخواست آئی ۔ عدالت نے سی سی ڈی حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہایہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟آپ کے موکل کے خلاف سی سی ڈی کیا کرنا چاہ رہی ہے ؟ ۔وکیل درخواستگزار نے کہاسر میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ یہ انکاؤنٹر کرنا چاہ رہے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ گر یہ انکاؤنٹر کرنا چاہ رہے ہیں تو اسکی وجہ کیا ہے ؟وکیل درخواستگزار نے کہاسر یہ سی سی ڈی والے ہی بہتر بتا سکتے ہیں ، گرفتاری ڈالنا انکا مقصد ہی نہیں ، انکا مقصد یہی ہے کہ جب بھی یہ بندہ باہر جانے کی کوشش کرے تو ایئر پورٹ سے ہی کوئی بھی ادارہ اسے لے جائے ۔عدالت نے کہا چلیں اس معاملہ کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں