پاکستان کی شکایت جائز:فضل الرحمٰن،مذاکرات سے راستہ نکالا جائے:اچکزئی
جذباتی رویے پیچیدگیاں بڑھارہے :سربراہ جے یو آئی ،ٹھنڈے دماغ سے سوچاجائے :اپوزیشن لیڈر ہماری دعائیں اورحمایت سکیورٹی فورسزکیساتھ:بیرسٹرگوہر، سرحدی عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے :سہیل آفریدی
اسلام آباد،پشاور( اپنے رپورٹر سے ، نیوزایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک )جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی سے متعلق شکایات جائز ہیں، تاہم افغانستان کی خودمختاری اور داخلی مشکلات کا بھی احترام ضروری ہے ۔ جذباتی رویے دونوں ممالک کے لیے پیچیدگیوں میں اضافہ کر رہے ہیں، خطے میں امن کے لیے دوطرفہ مفادات، قابل اعتماد سکیورٹی فریم ورک اور بین الاقوامی مسلمہ ضابطوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے ۔ یکطرفہ عسکری مہم جوئی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگی پیدا کرے گی، مسئلے کا پائیدار حل صرف سفارتی مہم جوئی کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے ،امن کے خواہاں ممالک سے پرامن سفارتی مداخلت کی توقع رکھتے ہیں تاکہ کشیدگی کم ہو اور باہمی اعتماد قائم رہ سکے ۔ ادھر قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے صحافیوں سے گفتگوکے دوران کہا کہ ہمسایہ ممالک سے لڑائیاں ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔
ہمیں ‘‘جیو اور جینے دو’’ کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے اور ہمسایوں کے تعلقات مزید خراب نہ ہوں ۔ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، ایران کے گرد امریکی افواج کی موجودگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ بحرانوں میں مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالا جائے ۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس نہج پر نہیں پہنچے کہ انہیں دوبارہ امن کی طرف نہ لایا جا سکے ۔ دریں اثنا چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم جہاں بھی ہو سکے اپنے پڑوسیوں سے امن قائم کر ینگے لیکن انکی طرف سے پاکستان کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے سے ہرگز دریغ نہیں کریں گے ۔ اللہ پاکستان کو ہمیشہ محفوظ رکھے ، ہر دشمن کو انجام تک پہنچائیں گے ۔
سکیورٹی فورسز ان شا اللہ قوم کی دعاؤں سے اپنے ملک کا دفاع کریں گی ، ہماری دعائیں اور حمایت انکے ساتھ ہے ۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے ۔ پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہم سب کا قومی فریضہ ہے اور کسی کو بھی سرحدی علاقوں کی سلامتی پر سمجھو تانہیں کرنے دیا جائے گا،صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بارے اجلاس اور سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد سی ایم ہاؤس سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی اور بیرونی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا،پاک افغان کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر عوامی خدشات سے بخوبی آگاہ ہیں اور سرحدی علاقوں کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔