حملہ آور پائریٹڈ سافٹ ویئر سے ’’رین انجن‘‘ وائرس تقسیم کررہے
پا ئریٹڈ گیمز اور غیر لائسنس شدہ سافٹ ویئر کے ذریعے ڈیٹا چور ی کیا جا رہا ہے
اسلام آباد(نامہ نگار)کیسپرسکی کی تھریٹ ریسرچ ٹیم نے ’’رین انجن‘‘نامی میلویئر لوڈر کے بارے میں اپنی تازہ تحقیق میں کہا کہ حملہ آوروں نے درجنوں ویب سائٹس بنا ئی ہیں جہاں سے پائریٹڈ سافٹ ویئر کے ذریعے ‘رین انجن’وائرس تقسیم کیا جا رہا ہے ، ان میں گرافکس ایڈیٹنگ سافٹ ویئر جیسے کورل ڈرا بھی شامل ہیں۔ حملوں کا دائرہ کار صرف گیمنگ کمیونٹی تک محدود نہیں بلکہ غیر لائسنس شدہ سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنے والے تمام صارفین تک بھی پھیل چکا ہے ۔ انفوسٹیلرز ایسے میلویئر ہوتے ہیں جو صارف سے ڈیٹا جمع کرکے حملہ آوروں کو بھیجتے ہیں۔ یہ معلومات مالی فراڈ یا ڈارک ویب مارکیٹس میں فروخت کے لیے استعمال کی جا تی ہیں ۔ کیسپرسکی تھریٹ ریسرچ کے لیڈ میلویئر اینالسٹ پاویل سین ینکو نے کہا یہ خطرہ صرف پائریٹڈ گیمز تک محدود نہیں، حملہ آور اسی تکنیک کو کریک شدہ پروڈکٹیوٹی سافٹ ویئر کے ذریعے بھی استعمال کر رہے ہیں ، اگر کوئی گیم انجن اپنے وسائل کی سالمیت کی جانچ نہیں کرتا تو حملہ آور اس میں میلویئر شامل کر سکتے ہیں جو 'پلے ' پر کلک کرتے ہی فعال ہو جاتا ہے ۔تحفظ کے لیے گیمز اور سافٹ ویئر صرف اصلی ذرائع سے ڈاؤن لوڈ کیے جائیں ، کیسپرسکی پریمئیم ‘ رین انجن’ جیسے خطرات سے تحفظ فراہم کرتا ہے جو میلویئر کو جائز سافٹ ویئر کے بھیس میں ہونے کے باوجود شناخت کر لیتا ہے ،صارفین اپنے آپریٹنگ سسٹم اور ایپلیکیشنز کو اپ ڈیٹ رکھیں ۔