ادویات200فیصد مہنگی،کینسر ،ہیپا ٹائٹس ،شوگر اور بلڈ پریشر والے زیادہ متاثر
2سال میں سانس دمہ، کھانسی ،معدہ، درد، ڈائریا، ڈپریشن ، الرجی اور اینٹی بائیوٹک ادویات کی قیمتیں بڑھیں ادویات ساز اداروں کی خود مختاری کامقصدمقابلے کی فضاپیداکرناتھا مگراداروں نے گٹھ جوڑکرکے مہنگائی کردی
لاہور(سجاد کاظمی سے )ملک میں دو سالوں کے اندر عام ادویات کی قیمتوں میں 200فیصد تک اضافہ کیا گیا۔ملک میں کینسر ، ہیپاٹائٹس ، شوگر اور بلڈ پریشر کی 100سے زائد ادویات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔فروری 2024کے حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق ادویات ساز ادارے قیمتیں مقرر کرنے میں خود مختار ہوں گے ۔جنرل ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول ختم ہونے پر کینسر، ہیپا ٹائٹس ، شوگر، بلڈ پریشر ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے ۔اسی طرح سانس دمہ، کھانسی ،معدہ، درد، یورن انفیکشن ، ڈائریا، ڈپریشن ،خون پیدا کرنے والی ،سکن اور آنکھوں کی الرجی اور اینٹی بائیوٹک میڈیسن کی قیمتیں بڑھیں۔قیمتوں میں آزادی کا مقصد ادویات ساز اداروں میں مقابلے کی فضا پیدا کرنا تھا تاکہ انٹر نیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق ادویات کوکنٹرول کیا جاسکے مگر اس کے برعکس اداروں نے گٹھ جوڑ کرکے قیمتوں میں اضافہ کرلیا۔اگرقیمتوں کی بات کی جائے تو بریسٹ کینسر کے انجکشن ایلبو من 100ایم ایل کی پہلے قیمت 23ہزار 709روپے تھی اور اب نئی قیمت 34ہزار 700 روپے ہے ،اس میں 10ہزار 991 روپے اضافہ ہوا ہے ۔
اسی طرح ہیپا ٹائٹس بی کی 28گولیوں او،سی ویر کی قیمت 12ہزار 745روپے تھی، نئی قیمت 16000 ہو چکی ہے ۔ایم آر آئی میں استعمال ہونے وا لے انجکشن اومنی پیک کی قیمت5300سے 8000 تک پہنچ گئی جس کے مطابق 100ایم ایل کے انجکشن میں 2800روپے تک اضافہ کیا گیا ہے ۔کھانسی کے لیے مشہور سیرپ ڈاکٹر کف کی پرانی قیمت 523سے 521روپے اضافہ کرکے 1044روپے کردی گئی ہے ۔ آنکھوں کی کریم ٹوبرا ڈیز ٹو کی قیمت 564سے بڑھا کر 1500روپے کردی گئی اور آنکھوں کے انفیکشن دور کرنے والی اس کریم کی قیمت میں 935روپے اضافہ ہوچکا ہے ۔اسی طرح سانس کی بحالی کی میڈیسن ایٹم ایروسول کی قیمت 1660سے 3600روپے کردی گئی ہے ۔معدے کی دوائی پینٹاسا کی قیمت 3ہزار 496سے 8ہزار899روپے کردی گئی ہے ، معدے کی 500ایم ایل کی اس دوائی کی قیمت میں 5ہزار 403روپے اضافہ کیا گیا ۔جنرل میڈیسن کی ان قیمتوں پر ادویات ساز اداروں کو خود مختار بنانے کا مقصد یہ تھا کہ بنگلہ دیش اور انڈیا کی طرز پر اداروں کے درمیان قیمت پر مقابلہ پیدا ہو اور مریض کو متوجہ کرنے کے لیے کم از کم قیمت مقرر کی جا سکے مگر اس کے برعکس ابھی تک دو سالوں میں صرف اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے ۔