نرسنگ مڈوائفری کونسل، دو خواتین ممبران کی تقرری پر سوالات
دونوں ممبران کا تعلق پمز سے ،آرڈیننس میں نجی شعبے سے نمائندگی کی شرط عائد ڈومیسائل اور دیگر شرائط پر بھی شکوک و شبہات ، وزارتِ صحت کے حکام خاموش
اسلام آباد (ایس ایم زمان )وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارت قومی صحت نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کی دو خواتین نرسنگ ممبران کی تقرری کر دی ، تاہم مذکورہ ممبران کی تقرری پر قانونی تقاضے پورے نہ کرنے اور وزیراعظم سے حقائق چھپانے پر سوالات اٹھ گئے ، پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری آرڈیننس کے مطابق کونسل کی خواتین نرسنگ ممبران نجی تعلیمی ادارے کی فیکلٹی سے ہو نی چاہئے اور مذکورہ نرسز کا ڈومیسائل بھی مذکورہ صو بے کا ہونا چا ہئے ، تاہم وزارت قومی صحت نے پمز نرسنگ کالج کی خواتین نرسز کو پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کا ممبر منتخب کیا جبکہ انکے ڈومیسائل اسلام آباد کا ہونے پر شکوک و شبہات ہیں۔
وزارت قومی صحت کے احکامات کے مطابق صائمہ سلطانہ کالج آف نرسنگ، پمز اور شاہدہ یاسمین نرسنگ انسٹرکٹر، کالج آف نرسنگ پمز اسلام آباد کو کونسل کا نامزد رکن مقرر کیا گیا ، تاہم پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس کے مطابق کونسل میں بطور نامزد رکن سینئر خاتون نرس کو شامل کیا جانا لازم ہے جو نجی شعبے کے نرسنگ تعلیمی ادارے سے وابستہ ہو، متعلقہ صوبے یا ریجن کا ڈومیسائل رکھتی ہو اور ماسٹرز ڈگری کے ساتھ کم از کم دس سالہ تجربہ رکھتی ہو۔ مذکورہ ممبران کے ڈومیسائل کی شرط پر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ ممبران اسلام آباد کی مقامی ڈومیسائل ہولڈر ہیں یا نہیں۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال، سیکر ٹر ی حامد یعقوب شیخ، سپیشل سیکرٹری محمد اسلم غوری، ایڈیشنل سیکر ٹر ی، جوائنٹ سیکر ٹر ی اور ترجمان نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کی خاتون نرسنگ ممبران تقرری کی شرائط کے حوالے سے روزنامہ دنیا کے سوال کا جواب نہیں دیا ۔