پاکستان میں ایرانی پٹرول 40 سے 50 روپے تک مہنگا
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایرانی پٹرول 230، ڈیزل 200کا ہوگیا سمگلنگ روکنے کے باعث ایرانی تیل کی فراہمی 8لاکھ لٹرروزانہ تک محدود جنگ کے باعث ایران کی تیل لانے والی چھوٹی گاڑیاں سرحد پر نہیں آرہیں ایرانی تیل آنا بند ہونے پر بلوچستان میں ایندھن کا بڑا بحران پیدا ہونیکا خدشہ
کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایرانی تیل کی قیمتوں میں فی لٹر 40 روپے سے 50 روپے تک کا اضافہ ہوگیا۔ کوئٹہ میں ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ دانیال نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیڑھ ہفتے قبل تک کوئٹہ میں فی لٹر ایرانی پٹرول 180 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔ دو تین روز سے اس کی قیمت 230 روپے لٹر تک پہنچ گئی ہے ۔گوادر کے ڈیلر ماجد اصغر نے بتایا کہ ایرانی پٹرول فی لٹر 130 سے 135 روپے فروخت ہورہا تھا لیکن دو تین روز سے اس کی قیمت 180 روپے ہوگئی ہے ۔ اسی طرح ڈیزل کی فی لٹر قیمت 140 روپے سے بڑھ کر 200 روپے ہوگئی ہے۔
نوشکی ودیگر علاقوں میں بھی ایرانی تیل مہنگا ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ماشکیل سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنما میر کبیر ریکی نے بتایا چونکہ ایران کی جانب سے جو چھوٹی گاڑیاں سرحد تک تیل لاتی ہیں وہاں جنگ کی وجہ سے وہ گاڑیاں نہیں آر ہیں جس کے باعث ایرانی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔بلوچستان کے ایران کے ساتھ پانچ اضلاع کی سرحدیں لگتی ہیں جن میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔نہ صرف ان اضلاع میں پاکستانی کمپنیوں کا تیل دستیاب ہے بلکہ کوئٹہ اور چند ایک دوسرے بڑے شہروں کے سوا بلوچستان کے اکثر علاقوں میں ان کمپنیوں کا تیل نہیں ملتا ۔اس صورتحال کے باعث بلوچستان کے اکثر علاقوں کا انحصار گزشتہ چار پانچ دہائیوں سے ایرانی پٹرول اور ڈیزل پر ہے۔
کبیر احمد ریکی نے کہا کہ انہوں نے اپنے علاقے میں آج تک پاکستانی تیل کمپنیوں کا ایک لٹر تیل بھی استعمال نہیں کیا ،اگر یہ جنگ طویل ہوگئی اور اس کے نتیجے میں ایرانی تیل آنے کا سلسلہ بند ہوگیا تو بلوچستان میں ایندھن کا بڑا بحران پیدا ہوگا۔خیال رہے کہ بلوچستان میں ایران سے ماضی میں بڑی مقدار میں تیل آتا تھا جو کہ بلوچستان سے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں سمگل ہوتا تھا تاہم گزشتہ تین چار سال سے سرکاری حکام نے اس حوالے سے بہت سختی کی ہے ۔سینئر سرکاری اہلکار کے مطابق ڈھائی تین سال قبل بلوچستان میں ایران سے روزانہ ایک کروڑ 20 لاکھ لٹر تیل آتا تھا لیکن اب اس میں کمی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف بلوچستان کے سرحدی علاقوں اور ان سے جڑے دیگر دوردراز علاقوں کی ضرورت کے مطابق روزانہ صرف 8 لاکھ لٹر تیل آرہا ہے ۔