افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت میں شدت
طالبان رجیم امن قائم کر سکتے ہیں، نہ عوام کی خواہش کا احترام:سرور دانش
لاہور ( مانیٹرنگ سیل) افغانستان میں طالبان کے ظلم اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے خلاف عوامی اور سیاسی مزاحمت تیز ہو گئی ہے۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق سابق نائب صدر سرور دانش نے کہا کہ طالبان رجیم نہ صرف امن قائم کرنے میں ناکام ہے بلکہ دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی سے افغانستان پر بیرونی جارحیت کا راستہ کھل گیا ہے۔سرور دانش نے مزید کہا کہ اگر افغانستان سب کے لیے نہیں ہوگا تو یہ کسی کے لیے بھی نہیں ہوگا اور طالبان کے ساتھ تعلق قائم کرنا یا انہیں تسلیم کرنا قانونی طور پر جواز سے خالی ہے ۔ موجودہ حالات میں طالبان کا عوام کی خواہش سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔اسی طرح، نیشنل اسلامک موومنٹ کے سربراہ عبدالرشید دوستم نے کہا کہ طالبان کی شدت پسند اور جبر آمیز حکمرانی ناکام ہو چکی ہے اور افغان عوام کے بنیادی حقوق کے لیے شدید خطرہ بن گئی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی نے افغانستان میں عوامی اور سیاسی مزاحمت کو بڑھا دیا ہے اور یہ داخلی مزاحمت افغانستان کے مستقبل کے لیے سنگین اشارہ ہے ۔