حکومت کا گوادر میں درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس استثنا دینے سے انکار

 حکومت کا گوادر میں درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس استثنا دینے سے انکار

سی پیک اجلاس ، جانوروں کے ذبح سے متعلق پالیسی اور قوانین پر وضاحت طلب حکومت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ،قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے :حکام

لاہور (محمد حسن رضا سے )سی پیک کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کئی اہم معاملات سامنے آ گئے ہیں جنہوں نے نہ صرف گوادر فری زون کی ٹیکس پالیسی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دی جانے والی مراعات کے نظام پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ اجلاس میں ایک چینی کمپنی کی جانب سے درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی سے استثنا کی درخواست پر حکومت نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایسی رعایت دینے سے انکار کر دیا۔ روزنامہ دنیا کو موصول ہونیوالی اہم سرکاری دستاویزات کے مطابق مذکورہ غیر ملکی کمپنی نے سی پیک کے اعلیٰ سطح فورم میں یہ معاملہ اٹھایا کہ گوادر فری زون میں اپنے آپریشنز کیلئے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس میں چھوٹ دی جائے ، تاہم کسٹمز حکام نے اجلاس میں واضح کیا کہ پاکستان کے موجودہ قوانین کے تحت ٹریڈنگ کمپنیوں کو گاڑیوں کی درآمد پر کسی قسم کی ڈیوٹی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ حکام کا کہنا تھا کہ ایسی رعایت دینے کے لیے قانونی فریم ورک میں تبدیلی درکار ہوگی۔اجلاس میں گوادر فری زون کی ٹیکس پالیسی سے متعلق متعدد قانونی پیچیدگیاں بھی زیر بحث آئیں۔

سرکاری حکام نے نشاندہی کی کہ بعض غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے مراعات کے دائرہ کار سے متعلق مختلف تشریحات سامنے آ رہی ہیں جس کے باعث پالیسی کی وضاحت ضروری ہو گئی ہے۔ اس معاملے پر متعلقہ وزارتوں، کسٹمز حکام اور سرمایہ کار کمپنیوں کے درمیان مزید مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اسی اجلاس میں ایک اور حساس معاملہ بھی زیر بحث آیا جب کمپنی کی جانب سے جانوروں کے ذبح سے متعلق حکومتی پالیسی اور قوانین پر وضاحت طلب کی گئی۔ وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے حکام نے اجلاس میں واضح کیا کہ پاکستان کے موجودہ قانون کے مطابق نان حلال جانوروں کے ذبح کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس حوالے سے مذہبی اور قانونی تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دستاویزات کے مطابق کمپنی نے اپنے سلاٹر ہاؤس آپریشنز کے تناظر میں اس معاملے پر مزید وضاحت مانگی تھی جس کے بعد اجلاس میں حلال اور نان حلال جانوروں کے ذبح کے قانونی اور مذہبی پہلوؤں پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔

حکام نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی صنعتی یا تجارتی سرگرمی کو ملکی قوانین اور مذہبی حساسیت کے مطابق ہی چلانا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اسی کمپنی کو 2026 میں چین کو گدھے کے گوشت کی برآمد کے لیے لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ اس لائسنس کے اجرا کے بعد کمپنی کی جانب سے سلاٹر ہاؤس آپریشنز اور متعلقہ قوانین کے بارے میں مزید وضاحت طلب کی گئی تھی۔ سی پیک فورم نے اس معاملے پر فوری کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے بجائے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانونی فریم ورک، سرمایہ کاری پالیسی اور مذہبی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید مشاورت کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایک طرف غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے جبکہ دوسری جانب ملکی قوانین اور پالیسیوں پر بھی سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں