سندھ ہائیکورٹ:پی آئی اے ملازمہ کی برطرفی کالعدم قرار

سندھ ہائیکورٹ:پی آئی اے ملازمہ کی برطرفی کالعدم قرار

این آئی آر سی کا فیصلہ برقرار رکھنے ، ملازمہ کے تمام فوائد و واجبات اداکرنیکا حکم ماتحت فورمز کے فیصلوں میں کوئی بے ضابطگی ثابت نہیں، عدالت کے ریمارکس

کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے ملازمہ کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دئیے جانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے این آئی آر سی کا بحالی کا حکم برقرار رکھتے ہوئے ملازمہ کو تمام واجبات ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار دینے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ پی آئی اے کے وکیل نے موقف دیا کہ صائمہ حفیظ سومرو کو 2017 میں نوکری سے غیر حاضر رہنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ انکوائری کے بعد ملازمہ کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ ماتحت عدالت نے شواہد کو نظر انداز کرکے ملازمہ کی برطرفی کالعدم قرار دے دی۔صائمہ حفیظ سومرو کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواست گزار اپنے والد کی علالت کے باعث رخصت پر تھیں۔ درخواست گزار کے پاس مناسب چھٹیاں موجود تھیں تاہم ایچ آر نے چھٹیاں منظور نہیں کیں، ملازمہ کو شوکاز نوٹس قانونی مدت گزر جانے کے بعد جاری کیا گیا۔انکوائری کے دوران ملازمہ کو گواہوں کو جرح کا حق بھی نہیں دیا گیا۔ ملازمہ کے خلاف کی گئی تمام کارروائی غیر قانونی تھی۔ عدالت نے این آئی آر سی کا ملازمہ کی بحالی کا فیصلہ برقرار رکھنے اور پی آئی اے کو ملازمہ کو تمام فوائد و واجبات کی ادائیگی کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ماتحت فورمز کے فیصلوں میں کوئی بے ضابطگی ثابت نہیں ہوئی، ایسی صورت میں ہائیکورٹ کی مداخلت کا جواز نہیں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں