دو مرتبہ نظر انداز ہونے پر ترقی کیلئے مستقل نااہلی کا قانون کالعدم :7 بیوروکریٹس کی درخواستیں جزوی منظور
بہترسروس کے باوجود ترمیم ترقی سے مستقل محروم کرتی ،بورڈ اجلاس نے منفی تشخیص کی بنیاد پر سفارش نہیں کی :اسلام آبادہائیکورٹ ہائی پاوربورڈ کو درخواست گزاروں کی پروموشن پر از سر نو غورکرنے اور عامر ذوالفقار کی 30 دن میں سنیارٹی کے مطابق تعیناتی کاحکم
اسلام آباد(اپنے نامہ نگارو )اسلام آباد ہائیکورٹ نے گریڈ 21کے 7بیورو کریٹس کو گریڈ 22 میں ترقی نہ دینے کے خلاف کیس میں ہائی پاور سلیکشن بورڈ کے 29ویں اجلاس میں گریڈ 22میں پروموشن سے متعلق سفارشات کالعدم قرار دیتے ہوئے گریڈ 21کے سات بیورو کریٹس کی درخواستیں جزوی طور پر منظور کر لیں۔جسٹس انعام امین منہاس نے 63 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، عدالت نے دو مرتبہ پروموشن کے لیے زیر غور آنے کے باوجود گریڈ 22 میں ترقی نہ پانے پر ہمیشہ کیلئے نااہلی کا قانون کالعدم قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ دو مرتبہ ترقی کیلئے نظر انداز ہونے کے بعد پروموشن کیلئے مستقل نااہلی سے متعلق ترمیم خلاف قانون ہے،سروس ریکارڈ میں بہتری لانے کے باوجود یہ ترمیم آفیسرز کو پروموشن سے مستقل محروم کرتی ہے۔
ہائی پاور سلیکشن بورڈ کے میٹنگ منٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آفیسرز کی منفی تشخیص کی بنیاد پر پروموشن کیلئے سفارش نہیں کی گئی،آفیسرز کو دیانت، قابلیت، فیصلہ سازی کی صلاحیت میں کم گریڈ ملنے پر ترقی کی سفارش نہ کی گئی،ہائی پاور سلیکشن بورڈ نے افسران کو اوسط یا معمولی درجے کی صلاحیت رکھنے والا قرار دیا،عدالت نے ہائی پاور سلیکشن بورڈ کو درخواست گزاروں کی پروموشن پر از سر نو غور کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ذاتی معلومات یا غیر تصدیق شدہ تاثرات کے بجائے صرف سرکاری سروس ریکارڈ پر انحصار کیا جائے ،عامر ذوالفقار کو 30 دن کے اندر عہدے اور سنیارٹی کے مطابق پوسٹنگ دی جائے گی، عدالت نے عامر ذوالفقار کو او ایس ڈی بنانے کا 23 فروری 2023 کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا سہیل علی خان، مرتضیٰ خان اور مس آمنہ عمران کے مقدمات میں دیانت سے متعلق منفی نتائج ریکارڈ کیے گئے۔
منفی نتائج کی کوئی بنیاد سروس ڈوزیئر میں موجود نہیں،اگر کسی افسر کی دیانت واقعی مشکوک ہو تو اس کے خلاف باقاعدہ محکمانہ کارروائی ہونی چاہئے ،کسی افسر کو مشکوک مالی ساکھ پر گریڈ 22 میں ترقی نہ دینے جبکہ گریڈ 21 میں کام کی اجازت دے دی جائے ،یہ صوابدید استعمال کرنا ایسا ہے کہ سرکاری افسر کو مشکوک دیانت کا ظاہر کر کے اسے جائز ترقی سے محروم کیا جائے اور پھر بغیر کسی باضابطہ انکوائری یا سزا کے وہ مبینہ داغ خود بخود ختم ہو جائے ، عدالت نے وزیراعظم کے بغیر ہائی پاور سلیکشن بورڈ کی تشکیل کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا مستردکرتے ہوئے کہا وزیراعظم قانون کے مطابق کسی بھی وزیر کو ہائی پاور سلیکشن بورڈ اجلاس کی صدارت کی اجازت دے سکتے ہیں۔