کیپٹو پاورپلانٹس پرگیس لیوی مزید بڑھنے کا خدشہ
آئی ایم ایف نے اوسط لیوی کی تجویزمنظور نہیں کی، ذرائع وزارت پٹرولیم آئندہ بجٹ میں صنعتی یونٹس کیلئے ٹیکس کمی تجویز پر بھی عملدرآمد مشکل
اسلام آباد (آئی این پی)وزارت پیٹرولیم نے مستقبل میں کیپٹو پاورپلانٹس پرگیس لیوی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کردیا۔ ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق آئی ایم ایف نے اوسط لیوی کی حکومتی تجویزمنظور نہیں کی،آئی ایم ایف نے صنعتی یونٹس کے آڈٹ میں تاخیرپرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاصنعتی یونٹس آڈٹ کیلئے دئیے گئے وقت سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ حکومت نے گیس لیوی کا تعین اورپیک آورز کے بجائے اوسط صنعتی ٹیرف پرلیوی کی تجویزدی،حکومتی موقف میں کہا گیا کہ لیوی کو پیک آورز سے منسلک کرنا شرح میں اضافے کا باعث ہے ،کیپٹوپاورپلانٹس کی گیس سے قومی گرڈ پرمنتقلی صنعتی لاگت میں اضافے کا باعث ہے ،دسمبرمیں حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس کیلئے گیس اورایل این جی کے استعمال پرلیوی میں اضافہ کیا۔کیپٹو پاور پلانٹس کیلئے لیوی فی ایم ایم بی ٹی یو 1243 روپے مقرر ہے ،حکومت نے رواں مالی سال اس لیوی سے 105 ارب آمدن کا ہدف مقررکررکھا ہے ،اگست 2025 کے لیے لیوی کی شرح 690 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر تھی،اپریل کیلئے شرح 570، مئی کیلئے 550 اور جون کیلئے 402 روپے مقرر تھی۔ذرائع وزارت صنعت کاکہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے تجویز نہ مانی تواگست سے کیپٹوپاورپلانٹس پرلیوی میں مزید اضافے کا امکان ہے ،مالی گنجائش نہ ہونے سے آئندہ بجٹ میں صنعتی یونٹس کیلئے ٹیکس کمی تجویز پر بھی عملدرآمد مشکل ہے۔