ہمارے معاشرے میں جنسی ہراسگی ثابت کرنا مشکل:تحریری فیصلہ

ہمارے معاشرے میں جنسی ہراسگی ثابت کرنا مشکل:تحریری فیصلہ

میشاشفیع کسی پلیٹ فارم پر علی ظفر کیخلاف جنسی ہراسگی بارے بات نہیں کریں گی علی ظفر معروف گلوکار ،ان پر ایسا الزام پہلے نہیں لگایا گیا،159صفحات پر مشتمل فیصلہ

 لاہور (کورٹ رپورٹر) ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے گلوکار علی ظفر اور گلوکارہ میشا شفیع کے درمیان ہتک عزت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، 159 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ میشا شفیع نے 21 اپریل 2018 کو علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا جو ثابت نہ ہو سکا،فیصلے میں کہا گیا کہ الزامات سے علی ظفر کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، عدالت نے میشا شفیع کو پچاس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا،عدالت نے مزید ہدایت کی کہ میشا شفیع آئندہ کسی بھی پلیٹ فارم پر جنسی ہراساں کرنے سے متعلق علی ظفر کے خلاف بات نہیں کریں گی، چاہے وہ الیکٹرانک، پرنٹ یا سوشل میڈیا ہو،تحریری فیصلے میں عدالت نے دونوں فریقین کے سماجی اور تعلیمی پس منظر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ علی ظفر ایک معروف گلوکار ہیں جو سینکڑوں کنسرٹس میں پرفارم کر چکے ہیں جبکہ ان پر اس نوعیت کا کوئی الزام پہلے سامنے نہیں آیا،عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ہمارے معاشرے میں جنسی ہراساں کرنے کے واقعات کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے ، تاہم اس کیس میں شواہد الزامات کو ثابت نہیں کر سکے ۔فیصلے کے مطابق میشا شفیع نے پہلے محتسب اعلیٰ پنجاب سے رجوع کیا جہاں ان کی درخواست خارج ہوئی، بعد ازاں گورنر پنجاب اور پھر لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا مگر ہر سطح پر درخواست مسترد کر دی گئی۔عدالتی فیصلے کے بعد میشا شفیع نے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں