شوکاز نوٹس کیخلاف پٹیشن قابل سماعت نہیں ہوتی:ہائیکورٹ

شوکاز نوٹس کیخلاف پٹیشن قابل سماعت نہیں ہوتی:ہائیکورٹ

شوکاز نوٹس کو حتمی حکم تصور نہیں کیا جا سکتا،ملازمین کو دفاع کا مکمل حق حاصل ہے انکوائری کے ابتدائی مراحل میں عدالتی مداخلت قبل از وقت ہوتی ہے ،تحریری فیصلہ

لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس حسن نواز مخدوم نے سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائیوں سے متعلق فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض شوکاز نوٹس کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن قابل سماعت نہیں ہوتی، شوکاز نوٹس کو حتمی حکم تصور نہیں کیا جا سکتا ۔جسٹس حسن نواز نے جاوید علی شاہ اور دیگر کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا۔ متروکہ وقف املاک کے ملازمین نے شوکاز نوٹسز کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ محکمے کی جانب سے غیرقانونی طور پر شوکا نوٹسز جاری کرکے تادیبی کارروائی کی گئی اسے کالعدم قرار دیں، جسٹس حسن نواز مخدوم نے درخواستوں پر 9صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا عدالت نے قرار دیاکہ شوکاز نوٹس کے دوران ملازمین کو اپنے محکمے کے سامنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے ۔ محض شوکاز نوٹس کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن قابل سماعت نہیں ہوتی۔ شوکاز نوٹس کو حتمی حکم تصور نہیں کیا جا سکتا۔انکوائری کے ابتدائی مراحل میں عدالتی مداخلت قبل از وقت ہوتی ہے ۔ جسٹس حسن نواز مخدوم نے نیا قانونی نکتہ طے کردیاعدالت نے دونوں پٹیشنز کو قبل از وقت اور میرٹ پر پورا نہ اترنے کی بنیاد پر خارج کر دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں