دوران حراست ملزموں کی ٹانگیں ٹوٹنا تشویشناک معاملہ، آنکھیں بند نہیں کرسکتے : لاہور لائیکورٹ
گوجرانوالہ ڈویژن میں2024 میں ایک بھی ملزم نہ گرا اور2026 میں اچانک 186 واقعات کیسے پیش آگئے کوئی ملوث پایا گیا تو کارروائی ہوگی:ججز کے ریمارکس، آر پی او سے جواب طلب ،منشیات کے ملزم کی ضمانت مسترد
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے منشیات کے ملزم ابوبکر کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔ دوران سماعت عدالت نے گوجرانوالہ ڈویژن میں پولیس حراست کے دوران منشیات کے ملزموں کی ٹانگیں ٹوٹنے کے غیر معمولی واقعات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس د ئیے کہ آپ آنکھیں بند کر سکتے ہیں، ہم نہیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2026 میں اب تک گوجرانوالہ ڈویژن میں مجموعی طور پر 186 ملزموں کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات پیش آئے ، جن میں ضلع گوجرانوالہ میں 158، گجرات میں 2 اور منڈی بہاؤالدین میں 4 واقعات شامل ہیں۔ سرکاری وکیل کے مطابق سال 2024 میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا جبکہ 2025 میں 30 افراد کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے آر پی او سے استفسار کیا کہ کیا یہ پولیس کا کوئی نیا میکنزم ہے ؟ ، 2024 میں ایک بھی ملزم نہیں گرا جبکہ 2026 میں اچانک 186 افرادکیسے گر گئے اور ان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں، یہ معاملہ تشویشناک ہے۔ آر پی او خرم شہزاد نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس معاملے کا خود جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جائے گی، تاہم عدالت نے کہا کہ بطور سپروائزری افسر یہ ان کی ذمہ داری ہے اور انکوائری سے عدالت مطمئن نہیں۔ اگر کوئی ملوث پایا گیا تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔دوران سماعت ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا، برآمدگی بوگس ہے اور گرفتاری کے وقت ویڈیو بھی نہیں بنائی گئی۔عدالت نے قرار دیا کہ پولیس حراست میں ملزموں کی ٹانگیں ٹوٹنے کے سنگین معاملے پر علیحدہ تحریری حکم نامہ جاری کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے ۔