جعلی نادرا دستاویزات کیس:عدالت کا موبائل فرانزک کا حکم

 جعلی نادرا دستاویزات کیس:عدالت کا موبائل فرانزک کا حکم

ہائیکورٹ کی این سی سی آئی اے کو دو ہفتوں میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت اگر کوئی بیگناہ ہے تو جیل میں نہیں ہونا چاہیے :جسٹس فاروق حیدر ،ریمارکس

لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے نادرا کی جعلی دستاویزات بنا کر فروخت کرنے کے مقدمے میں ملزم کی درخواست ضمانت پر این سی سی آئی اے کو دو ہفتوں میں ملزم کے موبائل کا فرانزک کرنے کا حکم دے دیا۔وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ این سی سی آئی اے نے ملزم کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کی ہے ، ملزم سات ماہ سے جیل میں ہے ، عدالت ضمانت منظور کرے ۔عدالت نے ریمارکس د ئیے کہ سات سو سال بھی ہو جائیں، ملزم پر سنگین الزامات ہیں، اتنے بڑے ادارے کے ساتھ جعلی سازی کسی صورت نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ملزم پر الزام ہے کہ وہ ایف آر سی، نادرا ڈیٹا اور ڈرائیونگ لائسنس بنا کر لوگوں کو فروخت کرتا ہے ، عدالت نے قرار دیا کہ ایسے ملزموں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے ۔وکیل کے ملزم نے مؤقف اپنایا کہ ابھی صرف الزامات ہیں، کچھ ثابت نہیں ہوا، جس پر عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر الزام ہی ہوتا ہے ۔عدالت نے این سی سی آئی اے سے استفسار کیا کہ ابھی تک موبائل کا فرانزک کیوں نہیں کرایا گیا؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ وہ اس کیس میں تیسرا تفتیشی ہے اور موبائل فرانزک کے لیے مراسلہ بھجوا دیا گیا ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ سچ سچ بتائیں کیا ملزم قصوروار ہے ؟ یہاں سے تو بچ جائیں گے مگر اللہ کو جواب دینا ہے ۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم کی واٹس ایپ چیٹ موجود ہے جس میں نادرا کی دستاویزات فراہم کرنے کی بات کی جا رہی ہے ، مزید حقائق موبائل فرانزک کے بعد سامنے آئیں گے ۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر کوئی بے گناہ ہے تو اسے جیل میں نہیں ہونا چاہیے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں