منکی پاکس:اموات پرتشویش، وزیراعظم کی فوری اقدامات کی ہدایت
خیرپور میں 10اموات پرٹیمیں اسلام آباد سے روانہ، کراچی میں بھی کیس رپورٹ صوبوں کا بروقت اطلاع نہ دینا تشویشناک، قومی ادارہ صحت، بیماری پھیل سکتی، ماہرین
کراچی، خیرپور، اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،خبر ایجنسیاں)منکی پاکس سے اموات پر ادارے تشویش میں مبتلا ہوگئے ، جبکہ وزیر اعظم نے فوری اقدامات کی ہدایت کردی، خیرپور میں10اموات اور کراچی میں بھی کیس رپورٹ ہونے پر اسلام آباد سے ٹیمیں روانہ کردی گئیں، قومی ادارہ صحت نے صوبوں کی جانب سے بروقت اطلاع نہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ کراچی میں Mpox کا ایک اور تصدیق شدہ کیس سامنے آیا ، جس کے بعد محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر فاطمہ میر کے مطابق نجی اسپتال میں اس وقت منکی پاکس کا مریض زیر علاج ہے اور اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے ضلع خیرپور اور دیگر علاقوں میں بھی 10 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر فاطمہ میر کے مطابق منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر جلد سے جلد کے قریبی رابطے کے ذریعے منتقل ہوتی ہے ، تاہم بعض صورتوں میں یہ سانس کے ذریعے بھی پھیل سکتی ہے ۔ اس بیماری کی نمایاں علامات میں بخار، جسم میں درد اور جلد پر دردناک دانے یا چھالے شامل ہیں، جو ابتدا میں دھبوں کی صورت ظاہر ہو کر بعد ازاں بلبلوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ بیماری عموماً بالغ افراد کو متاثر کرتی ہے اور اس کا کوئی مخصوص علاج فی الحال پاکستان میں دستیاب نہیں، تاہم مریضوں کو علامات کے مطابق علاج فراہم کیا جاتا ہے ، جس میں بخار اور درد کو کنٹرول کرنا اور پیچیدہ صورت میں آکسیجن کی فراہمی شامل ہے ۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ مریض کو بغیر حفاظتی اقدامات جیسے ماسک اور دستانوں کے چھونا خطرناک ہو سکتا ہے ، کیونکہ وائرس کے دوسروں میں منتقل ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے خیرپور میں منکی پاکس کی وبا کا نوٹس لے کر فوری اقدامات کی ہدایت کردی۔خیرپور میں منکی پاکس کی وبا کی وفاقی سطح پر تحقیقات کی جارہی ہیں، قومی ادارہ صحت کے ماہرین کی ٹیم اسلام آباد سے خیرپور کیلئے روانہ ہوگئی۔ قومی ادارہ صحت نے صوبوں کی جانب سے بروقت رپورٹنگ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور صوبائی حکام سے کیسز کا ڈیٹا فوری طور پر شیئر کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ قومی ادارہ صحت نے کہا کہ صوبائی سطح پر رپورٹنگ میں تاخیر قومی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے ، عالمی ادارہ صحت کو بروقت رپورٹنگ پاکستان کی بین الاقوامی ذمے داری ہے ، چھپانا یا تاخیر سے رپورٹ کرنا وبا پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے ۔حکام نے منکی پاکس کے نمونے اسلام آباد لیبارٹری بھجوانے کی ہدایت کی جبکہ ڈی جی ہیلتھ نے ایئرپورٹس پر اسکریننگ سخت کرنے اور نگرانی بڑھانے کا کہہ دیا۔ حکام کے مطابق خیرپور میں گزشتہ روز 25 سے 30 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ، جس کے بعد لوگ تشویش میں مبتلا ہوگئے ۔ جاں بحق بچوں میں سے صرف 4 کے لیبارٹری ٹیسٹ منکی پاکس مثبت آئے جبکہ باقی کیسز خسرہ یا چکن پاکس کے تھے ۔